Advertisement
پاکستان

27 ویں ترمیم میں ہمیں نظر انداز کیا گیااسے مسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان 

27 ویں ترمیم سے نہ دستور میں بہتری آئے گی نہ عوامی مفاد کا تقاضا پورا کرے گی، حکومت مکمل طور پر عدلیہ کو اپنے پنجے میں رکھنا چاہتی ہے،سربراہ جے یو آئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 8 months ago پر Nov 25th 2025, 4:08 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
27 ویں ترمیم میں ہمیں نظر انداز کیا گیااسے مسترد کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان 

اسلام آبا: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےکہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے اس کو مسترد کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کے دو روزہ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم سمیت حالیہ قانون سازی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور شوریٰ نے اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے نہ دستور میں بہتری آئے گی نہ عوامی مفاد کا تقاضا پورا کرے گی، حکومت مکمل طور پر عدلیہ کو اپنے پنجے میں رکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پیش کی گئی 26ویں آئینی ترمیم طویل مشاورت سے تیار ہوئی تھی، ان کے مطابق اس وقت جے یو آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری رہے اور تحریک انصاف بھی اس عمل میں شامل تھی، جبکہ ترمیم باہمی مشاورت کے مراحل سے گزری۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کی کوشش رہی کہ آئین میں کوئی ایسی تبدیلی نہ کی جائے جس سے آئین کے بنیادی عنوان یا روح کو نقصان پہنچے۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک بڑے فریق کو مکمل نظرانداز کیا، ارکان کو جبری طور پر پارٹیوں سے الگ کیا اور جعلی اکثریت بنا کر ترمیم منظور کروائی، جو پارلیمانی اور جمہوری روایات کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ حکومت کی عزت میں اضافہ ہوا اور نہ ہی وہ قوتیں سرخرو ہوئیں جو اس ترمیم کو لانا چاہتی تھیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کے معاملے میں حکومت کا فرض تھا کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتی، مگر ایسا نہیں ہوا۔

مولانا کے مطابق حکومت کی مقبولیت پہلے ہی تیزی سے گر رہی ہے اور اس ترمیم کے لیے اراکین کے ہاتھ موڑ کر دو تہائی اکثریت کا تاثر دیا گیا، جو حقیقت میں ایک مصنوعی اور دباؤ پر مبنی اکثریت تھی۔

 

Advertisement