Advertisement

روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ می افغانستان میں 23 ہزار تک دہشت گرد جنگجو وں کی موجودگی کی تصدیق

ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کے باعث پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے،رپورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 months ago پر Feb 24th 2026, 2:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
روسی وزارت خارجہ کی رپورٹ می افغانستان میں 23 ہزار تک دہشت گرد جنگجو وں کی موجودگی کی تصدیق

ماسکو:روسی وزارتِ خارجہ ک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے جبکہ مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس فعال ہیں، جو علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کر دہ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار تک دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جن میں نصف سے زائد غیر ملکی عناصر شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے تقریباً 3 ہزار جبکہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کے باعث پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ القاعدہ،( ETIM (TIP اور دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ القاعدہ کے تربیتی مراکز افغان صوبوں غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان میں موجود ہیں۔

جاری کر دہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش خراسان نے افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں اور اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیل کر نام نہاد خلافت قائم کرنا ہے۔ جنوری 2026 میں کابل کے ایک چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والا دھماکہ داعش کی موجودگی کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح رپورٹ میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ میتھ ایمفیٹامائن افغانستان سے بیرون ملک سب سے زیادہ اسمگل ہونے والی منشیات قرار دی گئی ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

Advertisement