Advertisement
پاکستان

 افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار

پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک دہشت گرد گروہوں کی جنگی صلاحیتوں کو مؤثر طور پر کمزور نہیں کر دیا جاتا،عاصم افتخار

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر Mar 10th 2026, 3:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار

نیویارک:اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 9 مارچ 2026 کو سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے بطور قریبی ہمسایہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے طالبان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے اور مکالمے کی پالیسی اختیار کی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان نے کابل کے متعدد اعلیٰ سطحی دورے کیے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی، دوطرفہ تجارت میں سہولتیں دیں، ویزا نظام کو آسان بنایا اور افغانستان کو خطے سے جوڑنے کے لیے مختلف علاقائی پلیٹ فارمز پر تعاون کیا۔

سیکیورٹی کونسل سے خطا ب میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے بھی دوحہ-III عمل کے دوران طالبان کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی تھی تاکہ وہ انسدادِ دہشت گردی، انسانی حقوق کے احترام اور جامع حکمرانی جیسے بنیادی مطالبات پر عمل کریں، لیکن طالبان ان تینوں شعبوں میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جس کی تصدیق اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹس اور مانیٹرنگ ٹیم بھی کر چکی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے چار برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور امید کی جا رہی تھی کہ طالبان خود کو ایک ذمہ دار حکومتی ادارے کے طور پر تبدیل کریں گے اور افغانستان کو امن و خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کریں گے، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے دہشت گرد گروہ افغانستان کے اندر محفوظ ٹھکانوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرحد پار حملے اور خودکش دھماکے کر رہے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طالبان حکومت کے بعض عناصر ان گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے اور صرف گزشتہ ماہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 175 سے زائد پاکستانی شہری شہید ہوئے،انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں پروان چڑھنے والی دہشت گردی کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔

دوران خطاب پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی اور قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی سے ہونے والی حالیہ کوششیں بھی اسی سلسلے کی کڑی تھیں، تاہم طالبان کی جانب سے بامعنی اقدامات نہ اٹھانے اور دہشت گرد گروہوں کی مذمت سے انکار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ مشترکہ تربیت، اسلحہ کے غیر قانونی حصول اور حملوں کی منصوبہ بندی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، اور پاکستان اپنی سرزمین، شہریوں اور تنصیبات کے خلاف سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں جدید فوجی سازوسامان بھی ضبط کیا ہے جو افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑ دیا گیا تھا،انہوں نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کو پاکستان نے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے سات دہشت گرد کیمپوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

 بعد ازاں 26 فروری کو طالبان نے سرحدی مقامات پر پاکستان کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں کا اعلان کیا اور فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس پر پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کے تحت جوابی کارروائی کی۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں مکمل طور پر متناسب اور صرف شناخت شدہ دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک دہشت گرد گروہوں کی جنگی صلاحیتوں کو مؤثر طور پر کمزور نہیں کر دیا جاتا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی بعض رپورٹس پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال کا مکمل اور حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کرنا ضروری ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان کے عوام اس وقت شدید معاشی و سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں پابندیاں، غیر فعال بینکاری نظام، امداد میں کمی، غربت، دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیاں اسلامی روایات اور مسلم معاشروں کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2026 کے ہیومینیٹیرین نیڈز اینڈ ریسپانس پلان کے تحت افغانستان میں بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے 1.71 ارب ڈالر درکار ہیں، جبکہ مالی وسائل کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، حالانکہ اسے محدود وسائل اور ناکافی عالمی معاونت کا سامنا رہا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بوجھ کو بانٹنے میں پاکستان کا ساتھ دے اور اپنے وعدے پورے کرے۔

آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔

Advertisement
حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے،وزیر خزانہ

حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے،وزیر خزانہ

  • 3 hours ago
امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط جی 7 اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع،ایرانی ذرائع

امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط جی 7 اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع،ایرانی ذرائع

  • 4 hours ago
ایران۔امریکا امن معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کرلے گا،وزیراعظم

ایران۔امریکا امن معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کرلے گا،وزیراعظم

  • an hour ago
وزیراعظم شہبازشریف کی میثاقِ جمہوریت و معیشت کیلئے اپوزیشن کو پھر بات چیت کی دعوت

وزیراعظم شہبازشریف کی میثاقِ جمہوریت و معیشت کیلئے اپوزیشن کو پھر بات چیت کی دعوت

  • 4 hours ago
جس بہتری، ریلیف کا وعدہ کیا اسکا آغاز ہوچکا ہے، یہ  ریلیف اور عومی فلاح کا بجٹ ہے،شہبازشریف

جس بہتری، ریلیف کا وعدہ کیا اسکا آغاز ہوچکا ہے، یہ  ریلیف اور عومی فلاح کا بجٹ ہے،شہبازشریف

  • 21 hours ago
اسحا ق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

اسحا ق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

  • 2 hours ago
آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک او ر جنگی طیارہ گر کر تباہ،ائیر فورس کی تصدیق

آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک او ر جنگی طیارہ گر کر تباہ،ائیر فورس کی تصدیق

  • 3 hours ago
اسلام آباد ڈکلریشن سے عالمی امن قائم ہو رہا ہے، پاکستان نے تیسری عالمی جنگ روکی یہ  اعزاز کی بات ہے،طاہر اشرفی

اسلام آباد ڈکلریشن سے عالمی امن قائم ہو رہا ہے، پاکستان نے تیسری عالمی جنگ روکی یہ اعزاز کی بات ہے،طاہر اشرفی

  • 3 hours ago
شمالی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 21 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 48 ہو گئی

شمالی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 21 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 48 ہو گئی

  • 5 hours ago
آئندہ مالی سال کے  دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

  • a day ago
وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد،ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد،ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ

  • a day ago
دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

  • 21 hours ago
Advertisement