Advertisement

 مذاکرات میں ناکامی: امریکی نیوی فوری طور پر ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی،ٹرمپ کی دھمکی

ہرمز میں ایرانیوں کی بچھائی گئی سرنگوں کو بھی تباہ کرنا شروع کریں گے، ہم پر یا جہازوں پر حملہ کرنے والے ایرانیوں کو جہنم رسید کر دیا جائے گا،ٹرمپ

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Apr 12th 2026, 9:04 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 مذاکرات میں ناکامی: امریکی نیوی فوری طور پر ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی،ٹرمپ کی دھمکی

واشنگٹن ڈی سی: پاکستان کی میزبانی و ثالثی میں امریکا و ایران کےمابین ہونے والے امن مذاکرات میں ناکامی پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئےکہا ہے کہ امریکی نیوی فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکی نیوی فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی، جو بھی ہمارے جہازوں پر فائرنگ کرے گا اسے تباہ کریں گے، ہم آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کریں گے، ناکہ بندی ہوگی اور دوسرے ممالک بھی اس میں شامل ہونگے۔

بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اپنی نیوی کو کہا ہے ایران کوٹول دینے والے جہازوں کو تلاش کریں، جو بھی ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں ملے گا، ہمیں لگا تھا آبنائے ہرمز پر جہازوں کو آزادانہ آنے جانے کی اجازت ہوگی مگر ایران نے ایسا ہونے نہیں دیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی کے بعد کسی بھی وقت ہم آبنائے ہرمز سے تمام جہازوں کو آنے جانے کی اجازت دینے کی بنیاد پر پہنچ جائیں گے،انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا نہیں ہونے دیا اور کہا وہاں بارودی سرنگیں ہیں جس کے بارے میں ایران کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، یہ عالمی بھتہ خوری ہے اور دیگر ممالک خصوصاً امریکا کبھی بھتہ نہیں دیں گے۔

جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانیوں کی بچھائی گئی سرنگوں کو بھی تباہ کرنا شروع کریں گے، ہم پر یا  جہازوں پر حملہ کرنے والے ایرانیوں کو جہنم رسید کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم ہوچکی، طیارہ شکن نظام اور ریڈار ناکارہ ہوگئے، خامنہ ای اور ایران کے زیادہ تر رہنما دنیا میں نہیں رہے، یہ سب ایران کی جوہری خواہش کی وجہ سے ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اسلام آباد مذاکرات کے حوالے جاری پیغام میں کہا کہ امریکی نمائندے مذاکرات میں ایرانی قیادت سے خوشگوار اور باوقار تعلقات قائم کر چکے تھے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ سب سے اہم مسئلے پر سخت مؤقف پر قائم رہے۔

بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وفد کی اسلام آباد میں ایرانی وفد کیساتھ ملاقات اچھی رہی، بیشترنکات پراتفاق ہوگیا مگر جوہری معاملے پراتفاق نہ ہوسکا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے ، ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، کئی حوالوں سے طے پانے والے نکات فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں برسوں سے کہہ رہا ہوں ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر غیر مستحکم اور غیر متوقع افرادکے پاس جوہری طاقت آجائے تو مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں۔

Advertisement