Advertisement

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی توثیق

مریکی محکمہ خارجہ کے دیے گئے بیان کے مطابق پاکستانی عوام نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران دہشت گردی کے باعث بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a month ago پر Jul 3rd 2026, 6:18 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی توثیق

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکا دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اسلام آباد کی کوششوں کو اہم قرار دیتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے دیے گئے بیان کے مطابق پاکستانی عوام نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران دہشت گردی کے باعث بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ اقدامات ملک میں دہشت گرد حملوں، خصوصاً سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے واقعات کے ردعمل میں کیے گئے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے کے دوران پاکستان نے افغانستان میں موجود جدید اسلحے کے ذخائر اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان طالبان کو اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے تاکہ خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

امریکا نے اگرچہ مذکورہ قرارداد کے مسودے پر تکنیکی بنیادوں پر اختلاف کرتے ہوئے اس کے خلاف ووٹ دیا، تاہم واشنگٹن نے واضح کیا کہ یہ مؤقف پاکستان کے ساتھ سکیورٹی تعاون یا دہشت گردی کے خلاف اس کے حقِ دفاع کی حمایت پر اثرانداز نہیں ہوتا۔

بیان میں اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا کہ فروری 2026 میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے دوران بھی امریکی حکام نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔

Advertisement