Advertisement

پنجاب، خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 23 افراد جان سے گئے

شدید مون سون بارشوں سے مکانات اور دیواریں منہدم، کرنٹ لگنے اور سیلابی ریلوں نے قیمتی جانیں نگل لیں، متعدد افراد زخمی، امدادی کارروائیاں جاری، مزید بارشوں کا الرٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ a month ago پر Jul 22nd 2026, 7:30 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پنجاب، خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 23 افراد جان سے گئے

ویب ڈیسک: ملک میں جاری مون سون بارشوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں 23 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ ریسکیو اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق زیادہ تر اموات چھتیں اور دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور برساتی نالوں و سیلابی ریلوں کی زد میں آنے کے باعث ہوئیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش اور تیز ہواؤں سے پیش آنے والے مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور 37 زخمی ہوئے۔ متعدد اضلاع میں کچے اور بوسیدہ مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات پیش آئے، جبکہ بعض مقامات پر کرنٹ لگنے سے بھی جانی نقصان ہوا۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں 19 جولائی سے جاری بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 14 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 مرد، 2 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرین کا تعلق پشاور، نوشہرہ، مردان، صوابی، باجوڑ، بونیر، شانگلہ، خیبر، اپر اور لوئر دیر، چترال اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع سے ہے۔ کئی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے جبکہ مال مویشیوں کا بھی نقصان ہوا۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ کے بنگی والا گاؤں میں ایک افسوسناک واقعے میں موسلادھار بارش کے دوران مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں میاں بیوی اور ان کے دو بچے شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیاں تیز کر دیں۔

محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مون سون سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی علاقوں میں مزید موسلادھار بارش، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں سے دور رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Advertisement