موسمی رحجان ’’ال نینو‘‘کی واپسی متوقع، عالمی درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق گزشتہ ال نینو نے 2023 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ 2024 ریکارڈ کا سب سے گرم سال بن گیا


ویب ڈیسک: اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی رجحان El Niño رواں سال کے وسط میں دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران ال نینو کے حالات پیدا ہونے کا قوی امکان ہے، جبکہ ابتدائی اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک طاقتور موسمیاتی واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھا دیتا ہے، جس کے باعث ہوا کے دباؤ، ہواؤں کی سمت اور بارشوں کے نظام میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔یہ نظام وقتاً فوقتاً اپنے الٹ رجحان La Niña کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے، جبکہ بعض اوقات درمیانی (نیوٹرل) صورتحال بھی برقرار رہتی ہے۔
An El Niño event is expected from mid-2026, impacting global temperature & rainfall patterns, according to WMO's global seasonal climate update. Models indicate that this may be a strong one!
— World Meteorological Organization (@WMO) April 24, 2026
More details 👉 https://t.co/zQDJ6uWGJE pic.twitter.com/bqdt9uIaRr
ماہرین کے مطابق گزشتہ ال نینو نے 2023 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ 2024 ریکارڈ کا سب سے گرم سال بن گیا۔
ڈبلیو ایم او کے ماہرِ موسمیات ولفران موفوفوما اوکیا کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز میں غیر جانبدار حالات کے بعد ال نینو کے آغاز کا امکان انتہائی مضبوط ہے اور یہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے،ادارے کے مطابق استوائی بحرالکاہل میں سمندری سطح کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اس رجحان کی واپسی کا واضح اشارہ ہے۔ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جائے گا۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ال نینو کی تعداد یا شدت میں براہِ راست اضافہ نہیں کرتی، تاہم یہ اس کے اثرات کو زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے، کیونکہ گرم سمندر اور فضا شدید موسمی حالات جیسے ہیٹ ویوز اور طوفانی بارشوں کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔

فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، ہوشربا انکشافات منظرعام پرآ گئے
- 2 hours ago

امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی پالیسی غیر قانونی قرار دے دی
- an hour ago

خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم
- an hour ago

وزیراعظم کی گلگت بلتستان میں پرامن اور شفاف انتخابات پر عوام کو مبارکباد
- a day ago

وزیراعظم کی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی رہائش گاہ آمد، خوشدامن کے انتقال پر اظہارِ افسوس
- a day ago

پاکستان اور چین کے مضبوط اور گہرے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، عطاء اللہ تارڑ
- 2 hours ago

پنجاب حکومت نے ’پرواز کارڈ‘ لانچ کر دیا ، ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کیلئے بلا سود قرض ملے گا
- a day ago

سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کل طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
- 35 minutes ago

تین روز کی مسلسل کمی کے بعد سوناآج پھر مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 26 minutes ago

جو کچھ ہو رہا ہے سب امریکا کی پلاننگ ہے،واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے، اسماعیل بقائی
- a day ago

فیلڈ مارشل کی لبنانی آرمی چیف سے ملاقات،دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا عزم
- 2 hours ago

تمام مسائل اور تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر طریقہ مذاکرات ہیں،علامہ طاہر اشرفی
- a day ago











