Advertisement
پاکستان

پی ڈی ایم کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نہ ماننے کا فیصلہ

اسلام آباد:  ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) کو نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Sep 11th 2021, 3:12 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
پی ڈی ایم کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نہ ماننے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، پی ڈی ایم نے  الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق  الیکشن ای وی ایم کے تحت ہونے پر بائیکاٹ پر غورکیا گیا، پی ڈی ایم اجلاس میں ملک بھر میں احتجاج اورلانگ مارچ کے متعلق مختلف تجاویز پر بھی  غور کیا گیا۔پی ڈی ایم نے صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں بیک وقت دھرنا دینے پر مشاورت بھی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ  پی ڈی ایم نے  پیپلزپارٹی کے قائدین کےخلاف کوئی بیان بازی یا ردعمل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کا ڈی آئی خان جلسے سے پہلے احتجاج کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کا  بھی فیصلہ،بیک وقت دھرنے سے متعلق حتمی فیصلہ ڈی آئی خان اجلاس سے پہلے کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق  ای وی ایم پر زور زبردستی کی گئی تو پی ڈی ایم آئندہ عام انتخابات کے بائیکاٹ پر غور کر سکتی ہے،بائیکاٹ کے متعلق مولانا فضل الرحمان نوازشریف اور اپوزیشن قائدین سےمشاورت کریں گے۔

حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ مختلف ایشوز پر مشاورت کی تاہم بائیکاٹ سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں ہوا، امید ہے مختلف ایشوز پر مشاورت کے بعد جلد حتمی فیصلے تک پہنچ جائیں گے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فوادچودھری کا  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی منطق عجیب و غریب ہے،الیکشن کمیشن کہتا پارلیمنٹ کو حق نہیں ہے بتائے انتخابات کیسے ہوں گے،آئین میں واضح لکھا ہے صاف شفاف انتخابات کے قوانین بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے،قانون بنانے کا اختیار الیکشن کمیشن کے نہیں پارلیمان کے پاس ہے،پارلیمان میں بیٹھے ارکان فیصلہ کرتے ہیں کس طرح کا نظام اپنانا ہے،الیکشن کمیشن کو ٹیکنالوجی کے استعمال پر اعتراض نہیں ،انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کو زیادہ شوق ہے اپوزیشن کے ماﺅتھ پیس کے طور پر کام کریں ،چیف الیکشن کمشنر کو نوازشریف نے لگایا تھااس لئے ان کی زبان بول رہے ہیں۔

خیال رہے کہ  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کیلئے آئی ووٹنگ، اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات سمیت الیکشن ایکٹ میں بیشتر حکومتی ترامیم کو مسترد کر دیاتھا۔

Advertisement