اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ نارمل تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان سےعدم اعتماد کی وجہ زمینی حقائق سے امریکا کی قطعی لاعلمی ہے۔


تفصیلات کے مطابق غیر ملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر ہے، اگر وہاں 40سال بعد امن قائم ہوتا ہے اور طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ایک جامع حکومت کے قیام کے لیے کام کرتے ہیں اور تمام دھڑوں کو ملاتے ہیں تو افغانستان میں 40سال بعد امن ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان میں آنے کا مقصد دہشت گردی اور عالمی دہشت گردوں سے لڑنا تھا لہٰذا غیرمستحکم افغانستان، مہاجرین کا بحران کے نتیجے میں افغانستان سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنم لے سکتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہاں سے افغانستان کی صورتحال کیا نکلے گی، ہم صرف امید اور دعا کر سکتے ہیں کہ وہاں 40سال بعد امن قائم ہو، طالبان نے کہا کہ وہ ایک جامع حکومت چاہتے ہیں، وہ اپنے خیالات کے مطابق خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں، وہ انسانی حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں، انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو یہ سب چیزیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 9/11 کے بعد امریکا کو افغانستان میں ہماری ضرورت تھی، جیارج بش نے پاکستان سے مدد طلب کی اور اس وقت کہا تھا کہ ہم پاکستان کو دوبارہ تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان امریکا کی جنگ کا حصہ بن گیا، اگر میں وزیر اعظم ہوتا تو میں کبھی ایسا نہ کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو باہر سے بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، ان کی ایک تاریخ ہے، افغانستان میں کسی بھی کٹھ پتلی حکومت کو عوام نے سپورٹ نہیں کیا لہٰذا یہاں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ ہم انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں، اس کے بجائے ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ عالمی معاونت اور امداد کے بغیر وہ اس بحران کو نہیں روک سکیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے،وہاں افراتفری اور پناہ گزینوں کے مسائل کا خدشہ ہے،افغانستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

ایران امریکا امن مذاکرات،وزیر اعظم و فیلڈ مارشل کی جے ڈی وینس سے ملاقات
- 5 hours ago

پاکستان کی نامور اداکارہ لیلیٰ نے ڈائریکشن کے میدان میں قدم رکھ دیا
- 4 hours ago

ایران امریکہ امن مذاکرات میںوزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا کردار لائق تحسین ہے، جے ڈی وینس
- 5 minutes ago

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز
- 8 minutes ago

وزیر اعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کی شقوں پر نظر ثانی کیلئے کمیٹی قائم کر دی
- 4 hours ago

وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وفد سے ملاقات، مذاکرات کے حوالے سےتبادلہ خیال
- 4 hours ago

علاقائی فورم اجلاس: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا علاقائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
- 14 minutes ago
ایران کی دھمکی کام کر گئی، نیتن یاہو کا لبنان جنگ بندی کا اعلان
- 5 hours ago

معاہدوں پرصرف کاغذی دستخط کافی نہیں ، بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ضروری ہے،محمد مخبر
- 4 hours ago

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے
- a day ago
لاہور: محمود بھٹی کے خلاف مذہبی و سماجی تنظیموں کااحتجاج، قانونی کارروائی کا مطالبہ
- a day ago

امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کی تمام شقیں ہمارے حق میں ہیں،ایرانی صدر
- 5 hours ago










