اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ عالمی برادری افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے، ہر صورت طالبان حکومت سے بات چیت کرنئ چاہیے ۔


تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں برطانوی آن لائن خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ واشنگٹن اس چیلنج کو پورا کرے کیونکہ ملک، جہاں امریکا کی زیرقیادت ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے منسلک تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں، ایک بار پھر بھاری قیمت ادا کرے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں بڑی تبدیلیاں رونماہوئیں ، دنیا کو ہر صورت افغان طالبان کی حکومت سے بات چیت کرنی چاہئیے ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو افغانستان داعش کا گڑھ بن جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان تمام ہمسایہ ممالک کیلئے ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، وسط ایشیائی ممالک افغانستان کے راستے بحر ہنداورپاکستان تک رسائی حاصل کرسکتےہیں، خطےمیں اقتصادی تعاون کا فروغ چاہتےہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان میں خانہ جنگی سے بہت تباہی ہوئی، طالبان نے20سال بعد حکومت سنبھالی، افغانستان کوتنہا کرنے سےاس کےمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔ داعش سے چھٹکارا پانےکیلئے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو ایک قائدانہ کردار اداکرناہوگا، وہ افغانستان میں ایک فعال جمہوریت دیکھ رہےتھے، افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے، اُس وقت کے آرمی چیف نے بھی صدراوباما کو یہی بات کہی، افغانستان میں ایک جامع حکومت چاہتےہیں ، طالبان کو تنہا کرنے ، پابندیوں سےافراتفری اور انسانی بحران جنم لےگا، امریکاکو افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے دھچکا لگا، افغانستان کے ہمسائے بھی جامع حکومت کے حامی ہیں ۔ ان کاکہنا تھا کہ امریکی عوام کو افغانستان کی اصل صورتحال سے گمراہ رکھاگیا ، افغانستان میں امریکا کا اتحادی بننے سے پاکستان پر اثرات مرتب ہوئے، ہم ایسے گروپوں سے بات کر رہےہیں جو صلح چاہتےہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے 10ہزار واقعات میں 80ہزار پاکستانی شہیدہوئے، ہم کسی مسلح تنازع کا دوبارہ حصہ نہیں بنناچاہتے،ایک مستحکم افغان حکومت داعش سےبہتر طورپر نمٹ سکتی ہے۔ امریکی اتحادی بننے سےایسے لوگ ریاست پاکستان پربھی حملہ آور ہوئے، افغان مسئلے میں امریکا کا ساتھی بن کر پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔
کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ بھارت میں مکمل طور پر نسل پرست حکومت ہے،کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان متنازع علاقہ ہےجس کی توثیق اقوام متحدہ نے کی ہے ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر اقوام متحدہ نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، تنہائی کاشکارکرنےسےافراتفری پیداہونےکاخدشہ ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ انسانی حقوق کے معاملے پر بھارت کو تنقید کانشانہ نہیں بنایاجارہا، بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی،وہاں ایک کرفیوجیسی صورتحال ہے۔
Prime Minister Imran Khan's exclusive interview to Middle East Eye @MiddleEastEye #APPNews @PakPMO
— APP ?? (@appcsocialmedia) October 11, 2021
https://t.co/FLfnXzCV5v

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک اور اضافہ
- 2 دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 8 گھنٹے قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- ایک دن قبل
آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 14 گھنٹے قبل

ورلڈکپ 2027، 10 ٹیموں کی براہِ راست انٹری
- ایک دن قبل

پنجابی فلم ’’عشق بدمعاش‘‘ کا ٹریلر جاری
- ایک دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 14 گھنٹے قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 13 گھنٹے قبل

فیملی ڈرامہ ’’فرینڈز آف سیونٹیز‘‘ نے دھوم مچا دی
- ایک دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 8 گھنٹے قبل
حج 2027کے لیے درخواست اور پاسپورٹ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی گئیں
- 2 دن قبل


