جی این این سوشل

پاکستان

ملک میں کورونا سےمزید33 اموات، ایک ہزار315نئےکیسز رپورٹ

اسلام آباد :عالمی وبا کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 33مریض انتقال کرگئے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار 315کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ملک میں کورونا سےمزید33 اموات، ایک ہزار315نئےکیسز رپورٹ
ملک میں کورونا سےمزید33 اموات، ایک ہزار315نئےکیسز رپورٹ

تفصیلات کے مطابق ملک بھرمیں کورونا کی دوسری  لہر جاری ہے ،   نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمارکے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید33افراد چل بسے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد12ہزار837 ہوگئی ہےجبکہ ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 21 ہزار 554ہے،اب تک کورونا کے5لاکھ78ہزار797کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں ۔

 پنجاب

 پنجاب میں کورونا مریضوں کی تعداد  ایک لاکھ 70 ہزار817 ہوگئی ۔ جبکہ صوبے میں اب تک 5 ہزار337 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

سندھ

سندھ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ مریضوں کی تعداد  2 لاکھ 57 ہزار 730ہو گئی جبکہ صوبے میں اب تک 4 ہزار335افراد جان کی بازی ہار گئے ۔

خیبرپختون خوا

خیبرپختون خوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 72 ہزار 003ہوچکی ہے ۔ صوبے میں 2070افراد چل بسے۔

بلوچستان

بلوچستان میں کورونا وائرس کے اب تک 19 ہزار038 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ صوبے میں 200 مریض چل بسے ۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مجموعی طورپرمتاثرہ افراد کی تعداد 44 ہزار 106جبکہ اموات کی تعداد 496تک جاپہنچی ۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں اب تک 4 ہزار 956افراد کورونا کا شکار ہوئے ہیں جبکہ 102افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

آزاد کشمیر

آزاد جموں کشمیرمیں کورونا سےمتاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار 147ہوچکی ہے جبکہ297 افراد جان کی بازی ہار گئے ۔

ملک بھرمیں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد بھی تیزی سے بڑھنے لگی ہے، این سی اوسی کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں میں2103افرادکوروناوائرس کوشکست دےچکے ہیں  ، ملک بھر میں اب تک 5 لاکھ لاکھ44ہزار406مریض کوروناکوشکست دےچکے ہیں ۔

پاکستان

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر


لاہور:  جرمن سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے پاکستان اور جرمنی کے مابین دوطرفہ تجارت میں توسیع، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے آپشنز کی نشاندہی کے لیے کاروباری وفود کے دوطرفہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) لاہور کے دفتر کے دورے کے دوران کیا ہے۔ ان کے ساتھ جنین روہور، فرسٹ سیکرٹری اکنامک اینڈ پولیٹیکل اور ڈاکٹر سیبسٹین پاسٹ، ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن بھی تھیں۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے ایسوسی ایشن کے دیگر سینئر ممبران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔

جرمن سفیرنے کہا کہ حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو جرمنی میں سپلائی چین کے ضوابط کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ان کے مطابق جرمن ترقیاتی تعاون پاکستان میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرے گا۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے مکمل لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ اپٹما لاہور کے احاطے کی پیشکش کی۔ جرمنی کے ویزوں کے اجراء میں تاخیر کے حوالے سے سفیر نے کاروباری ویزوں کے حصول کے طریقہ کار کی تفصیل سے وضاحت کی ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اگر درخواست دہندگان کی طرف سے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو کاروباری مقاصد کے لیے ویزے دو ہفتے کے وقت کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔

قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں چیئرمین اپٹما نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس میں مزید 10 سال کی توسیع سے پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اور انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، گڈ گورننس اور شفافیت وغیرہ میں بہتری آئے گی۔

انہوں پاکستان اور جرمنی کے درمیان 45 ملین یورو کے تکنیکی تعاون کے معاہدے کو دوطرفہ تجارت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کی ضروریات کے بارے میں تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اپٹما کے اراکین کو ویزوں کے فوری اجراء کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ان کے مطابق،جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستانی برآمدات تک رسائی کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنے حریفوں جیسے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ سے مقابلہ کر سکیں، جس سے پاکستان یورپی یونین میں اپنی 4 مصنوعات میں سے 78 فیصد ڈیوٹی فری برآمد کرنے کا اہل بناتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سہولت نے 2013 سے 2024 تک یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 73 فیصد اور جرمنی کو 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔انہوں نےجرمن سفیر کو بتایا کہ اپٹما کے اراکین جی ایس پی پلس کے 27 کنونشنز کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں اور نئے کنونشنز کی تعمیل کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعت نے ترجیحی ریشوں جیسے آرگینک، بی سی آئی کاٹن اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر کے استعمال پر بھی توجہ مرکوز کی ہے اور فضلہ اور پانی کی صفائی کے پلانٹ لگانے، سبز ماحول اور سماجی طور پر ذمہ دار صنعت کو مغربی دنیا کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے قابل بنانا ہے۔

اپٹما کے سابق چیئرمین عبدالرحیم ناصر نے جی ایس پی پلس کو پاکستان کے لیے ایک بڑا پلس قرار دیتے ہوئے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد : اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق 40 ہزار سے زائد امید وار اس وقت اسلام آباد پولیس کا ٹیسٹ دینے اسلام آباد موجود ہیں ۔ 

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll