ہم وائرس کو نہ روک سکیں نہ اس کے پھیلاواور خاتمے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کر سکیں گے۔ اگر ہم دنیا سے عدم مساوات ختم کر دیں تو ہم اس وبا کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔


عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر دنیا سے عدم مساوات ختم کر دی جائے تو2022 میں کورونا وبا کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ اور گنائزیشن کے سربراہ ٹیڈ روس ایڈہانوم نے 2022 میں کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال کورونا وبا ختم ہو سکتی ہے کیونکہ اب ہمارے پاس اس سے لڑنے کے آلات موجود ہیں لیکن اس کے لیے دنیا سے عدم مساوات ختم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک کورونا وبا سے محفوظ نہیں ہیں لیکن اب ہمارے پاس کوویڈ 19 کو روکنے اور اس کا علاج کرنے کے بہت سے آلات موجود ہیں۔ لیکن جب تک عدم مساوات برقرار رہے گی مختلف طریقوں سے وائرس پھیلنے کا خطرہ بھی برقرار رہے گا۔
ان کا کہنا ہےکہ ان حالات میں ہم وائرس کو نہ روک سکیں نہ اس کے پھیلاواور خاتمے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کر سکیں گے۔ اگر ہم دنیا سے عدم مساوات ختم کر دیں تو ہم اس وبا کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اب جب ہم کوویڈ 19 وبا کے تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ یہ اس سال ختم ہو جائے گا۔ لیکن صرف اس صورت میں جب ہم متحد ہو کر کام کریں۔ اس طرح ہم اس عالمی ڈراونے خواب کو ختم کر دیں گے جس میں ہم جی رہے ہیں اور یقیناً یہ ممکن ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ نئے سال میں ہم نے حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں ویکسین کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتیں مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کریں تو پچاس لاکھ سے زائد جانیں لینے والی کورونا وائرس کی وبا کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن لوگوں کو بھی انفرادی سطح پر ویکسینیشن کے ساتھ حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کا ارادہ ہے کہ سن 2022 کے وسط تک دنیا کی 70فیصد آبادی کو ویکیسن لگادی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ساڑھے آٹھ ارب خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔ جس سے اموات کی شرح کم ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، اس وقت ہمارے پاس تمام بڑی عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کی صلاحیت موجود ہے اور ہم ان افراد کو بوسٹر ڈوز بھی لگا سکتے ہیں جو زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمارے پاس ویکسین کی وافر سپلائی ہونی چاہیے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ اگر ہم یہ اہداف حاصل کرتے ہیں تو ہم 2022 کے اختتام پر دوبارہ وبا سے قبل والی اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپسی کا جشن منا رہے ہوں گے اور اس وقت ہم اپنے پیاروں کے ساتھ مل کر اپنی خوشیاں کھل کر منا سکیں گے۔
انہوں نے کورونا کے خلاف ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر وبا کے خاتمے کے لیے ویکسین بنانے کی ٹیکنالوجی اور طریقہ کار دوسری کمپنیوں کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے تا کہ ویکسین کو وافر مقدار میں بنایا جا سکے

ایشین گیمز ہاکی:ملائیشیا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے میں ہرا دیا
- 2 days ago

پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائی،2,800 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط
- 2 days ago

ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
- 6 hours ago

رباط میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریب، مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین
- 2 days ago

شازیہ رضوان کا شیخوپورہ تھیٹرز کا اچانک دورہ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی
- 2 days ago
وزارت اطلاعات نےافغان وزارتِ دفاع کا اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ من گھڑت قرار دیا
- 3 days ago

آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم گرفتار
- 3 hours ago

ڈی آئی خان: چیک پوسٹ کے قریب دھماکا،11 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- 2 days ago

آصف اقبال کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، فنی خدمات کو خراجِ تحسین
- 2 hours ago

امریکہ افغانستان جنگی کمیشن کی علاقائی امن کے لیے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- an hour ago

وزیراعظم کا اقوام متحدہ سےخطاب امتِ مسلمہ، امن پسند دنیا کے جذبات کی آواز ہے: اشرفی
- 2 days ago
ملک میں سونے کی قیمتوں میں حیرت انگیزکمی
- 7 hours ago




