جی این این سوشل

کھیل

پیٹ کمنز نے عثمان خواجہ کو ’شیمپیئن شاور‘ سے بچا کر مداحوں کے دل جیت لیے

آسٹریلیا کے 0-4 سے ایشز سیریز میں کامیابی کے بعد پیٹ کمنز کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے یقینی بنایا کہ عثمان خواجہ آسٹریلیا کے لیے کھیلنے والے پہلے مسلمان کرکٹر ہیں تاہم جشن کی تقریب کے دوران ان پر شیمپئن(شراب) نہیں پھینکی جائے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پیٹ کمنز نے عثمان خواجہ کو ’شیمپیئن شاور‘ سے بچا کر مداحوں کے دل جیت لیے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق اوول گراؤنڈ میں جب آسٹریلوی کھلاڑیوں نے اسٹیج پر شراب کی بوتل اچھالی تو مذہبی عقائد کے پیش نظر عثمان خواجہ شراب کے اسپرے سے بچنے کے لیے پیچھے ہوگئے۔

پیٹ کمنز نے فوری عثمان خواجہ کے رد عمل پر کھلاڑیوں کو شراب ہٹانے کی ہدایت دیتے ہوئے ٹیم کو دوبارہ یکجاں کردیا۔

پیٹ کمنز کے اس اقدام کے بعد 5 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں دو اختتامی میچز کھیلنے والے عثمان خواجہ واپس اسٹیج پر آئے اور کپتان کے ہمراہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دوبارہ جشن میں شامل ہوئے۔ 

سیریز میں انگلینڈ کی سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کمنز نے کہا کہ عثمان مسلمان ہیں اور انہیں بالکل پسند نہیں ہے کہ ان پر شراب چھڑکی جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ میں نے صرف اس بات کو یقینی بنایا عثمان اسٹیج سے اٹھ گیاتھا اور اس پر شراب نہیں پھینکی گئی۔

سوشل میڈیا پر پیٹ کمنز کا یہ عمل مداحوں کی جانب سر سراہا جارہا ہے اور اس پر شائقین کرکٹ اپنے رد عمل اظہار بھی کررہے ہیں۔

دنیا

افغانستان میں 11 لاکھ کمسن بچے غذا ئی قلت کا شکار ہیں : اقوام متحدہ

برسلز:اقوام متحدہ  کاکہنا ہے  کہ رواں سال افغانستان میں تقریباً 11لاکھ بچّے غذا ئی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

افغانستان میں 11  لاکھ کمسن بچے غذا ئی قلت  کا شکار ہیں : اقوام متحدہ

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان میں یونیسیف کے غذائیت کے پروگرام کی سربراہ میلینی گیلون نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ افغانستان میں 2018 کے مقابلے میں شدید غذائی قلت  کے شکارمیں5سال سے کم عمر بچّوں کی تعداد دوگنی ہوسکتی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 10 لاکھ کے قریب تھی ۔

اقوام متحدہ اوردیگرامدادی ایجنسیاں قحط کے شکار ملک میں ہنگامی بنیادوں پر امداد دے رہی ہیں تاکہ بھوکے عوام کو مناسب خوراک مل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کوششوں کے باوجود غربت اور بھوک بڑھتی جا رہی ہے دوسری طرف یوکرین کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پرخوراک کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اسی غربت کی وجہ سے حاملہ خواتین کو مناسب غذا نہیں مل پاتی اور بچّے پیدا ہونے سے قبل ہی کم خوراکی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس شدید حالت میں بچّوں کا وزن کم ہوجاتا ہے اور ان کی قوت مدافعت اتنی کمزور پڑجاتی ہے جس سے وہ  جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیسیف نے پورے ملک میں ایک ہزار کے قریب صحت کے مراکز قائم کیے ہیں، جہاں ایسے بچّوں کا علاج اور دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاہم ان کا کہنا ہے یہ ہنگامی امداد زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکتی۔

اطلاعات کے مطابق یونیسیف نے افغانستان میں  تقریباً ایک ہزار علاج کے ادارے کھولے ہیں جہاں والدین اپنے غذائی قلت کے شکار بچوں کو لا سکتے ہیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بی اے پی نے وفاقی حکومت کی حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے

پر شائع ہوا

Muhammad Akram

کی طرف سے

بی اے پی نے وفاقی حکومت کی حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا

کوئٹہ : بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاقی حکومت کے لیے اپنی حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا ۔ جام کمال گروپ کے بی اے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی ایک اہم میٹنگ ہوئی ،

جس میں ارکان نے تجویز دی کہ پی ڈی ایم کی جن جماعتوں نے عمران خان کی تبدیلی کے وقت انہیں بلوچستان میں عدم اعتماد اور تبدیلی کے حوالے سے جو یقین دہانیاں کرائی تھیں اگر وہ اس پر عمل درآمد نہیں کرتیں تو پھر وفاقی حکومت کی حمایت واپس لینے پر غور کیا جائے اور اگر پی ڈی ایم ساتھ نہیں دیتی تو وفاقی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔ 

خیال رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے شہباز حکومت کو قومی اسمبلی میں 4 ووٹ دیے تھے اس وقت وفاقی حکومت کو ایوان میں صرف 2 ووٹوں کی برتری حاصل ہے ، ایسے میں اگر بی اے پی اپنی حمایت واپس لیتی ہے تو 2 ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی وفاقی حکومت ختم ہو جائے گی۔

بتاتے چلیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے ، تحریک عدم اعتماد پر14 اراکین اسمبلی پر دستخط موجود ہیں ، اس حوالے سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو بہتر نہیں سمجھا جا رہا تھا، بلوچستان کے حالات اچھے ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ معاملات بہتر ہوں۔

جام کمال نے کہا کہ 6،7 ماہ میں کچھ سیاسی معاملات پر ہمارے تحفظات تھے، ہمیں شوق نہیں کہ حکومت بار بار بدلتی رہے، وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک چلی تو ہم نے بار بار پریس کانفرنس کی، بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر مزید خاموشی اختیار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران ہمارا مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطہ رہا، تمام ملاقاتوں میں ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا تھا، ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے حق کی بات کی،

پی ڈی ایم کی ساری جماعتوں نے ہمارے مؤقف پر یقین دہانی کرائی، مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پہلا قدم ہمیں اٹھانا ہوگا، ہمارا ہم خیال گروپ پہلے دن سے ہمارے ساتھ ہے، ہرگز نہیں کہہ رہے کہ اپوزیشن کے اراکین بھی ہمارے ساتھ ہیں، اس تحریک میں تیزی آئے گی، سیاست میں بار بار تبدیلی سے ہمارے لئے بھی لمحہ فکریہ ہوتا ہے، اگر ملک نقصان میں جا رہا ہو تو پھر ایسی حکومت کو نہیں چلنا چاہیے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

قومی اسمبلی میں ای وی ایم کے استعمال کے خاتمے کا بل منظور

انہوں نے کہا کہ ہم ای وی ایم اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں اور ہم صرف ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

پر شائع ہوا

Muhammad Akram

کی طرف سے

قومی اسمبلی میں ای وی ایم  کے استعمال کے  خاتمے کا بل منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین ( ای وی ایم ) کے آئندہ انتخابات میں استعمال کے خاتمے کا  بل منظور ہو 

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت نے ای وی ایم کے حوالے سے تمام فریقین کو اعتماد میں نہیں لیا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو تحفظات تھے اور گزشتہ حکومت نے ای وی ایم کے حوالے سے تمام فریقین کوا عتماد میں نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کے ذریعے ملک بھر میں ایک ہی روز الیکشن کرانا ممکن نہیں ہے، تحریک انصاف کی حکومت میں اس قانون میں بہت سی ترمیم کی گئیں اور ای وی ایم پر الیکشن کمیشن میں بہت سے اعتراضات اٹھائے گئے جبکہ بہت کم فرق سے اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ بل سینیٹ میں آیا تو اس کو کمیٹی میں بھیجا گیا اور ہم نے اس کے اوپر بہت سے اجلاس کیے لیکن رولز کو بلڈوز کرتے ہوئے اس بل کو منظور کیا گیا۔ قانون میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں کچھ کمی پیشی رہ گئی تھی جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور الیکشن ریفارمز کی آڑ میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لے کر ای وی ایم کا کہا گیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو کوئی بھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں کرسکتا اور ہمارے بارے میں افواہ ہے شاید ہم اوورسیز کے ووٹ کے حق میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ای وی ایم اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں اور ہم صرف ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll