Advertisement
پاکستان

سارے کے سارے ادارے مل کر اُلٹے ہوگئے لیکن کچھ نہیں نکلا:  شہباز شریف 

لاہور : صدر مسلم لیگ نون ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سارے کے سارے ادارے مل کر اُلٹے ہوگئے لیکن کچھ نہیں نکلا، کرپشن سے پیسہ بنایا ہوتا تو واپس نہ آتا ۔ 

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Feb 11th 2022, 5:44 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سارے کے سارے ادارے مل کر اُلٹے ہوگئے لیکن کچھ نہیں نکلا:  شہباز شریف 

تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت میں شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے ۔

اس موقع پر شہباز شریف نے عدالت  سے بات کرنے کی اجازت طلب کی ، انہوں نے  کہا کہ مجھ پر الزام تھا کہ میں نے کرپشن کی، میرے تمام کاغذات پاکستانی حکام نے برطانیہ بھیجے، 2004ء میں پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن واپس بھیج دیا گیا ، کرپشن سے پیسہ بنایا ہوتا تو پاکستان واپس نہ آتا۔ برطانیہ میں اثاثے بنائے جس کا سارا ریکارڈ موجود ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مجھے نیب کے عقوبت خانے میں رکھا گیا،  پونے2 سال تحقیقات جاری ہیں۔ حکومت میرے اکاؤنٹ فریزکرواتی رہی۔میرے پاس ایک ایک دھیلے کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ موجود ہے۔ اب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیلی میل میں میرے خلاف خبر لگائی گئی، میرے اوپر گرانٹ میں کرپشن کا الزام لگایا گیا ،  اے آر یو، نیب، ایف آئی اے نے تمام ریکارڈ این سی اے کو بھجوایا، میرے اور بیٹے سلمان شہباز شریف کے خلاف برطانیہ میں تحقیقات ہوئیں، میں نے وہاں رہ کر اثاثے بنائے جن کا سارا ریکارڈ موجود ہے، یہ وہی کیس ہے جس کا تذکرہ آج کل ٹی وی اور اخبارات میں ہو رہا ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر  نے کہا کہ لندن میں رہنا تھا اس لیے اثاثے بنائے ، میں نے 1 ہزار ارب روپے کئی منصوبوں میں بچائے، قبرمیں بھی چلا جاؤں مگر حقائق کبھی بھی نہیں بدلیں گے، یہ سارے حقائق وہی ہیں جو لندن کی عدالت میں پیش کیے گئے۔

دوران سماعت ایس ای سی پی کے ایڈیشنل رجسٹرار غلام مصطفیٰ کے بیان پر شہبازشریف کے وکیل کی جانب سے جرح کی گئی  ۔ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کبھی رمضان شوگر مل کے ڈائریکٹر رہے ہیں ؟ جس پر غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ شہباز شریف کبھی رمضان شوگر مل کے ڈائریکٹر نہیں رہے۔ شہباز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا ان کا بس چلے تو مجھے پاکستان کی تمام کمپنیوں کا ڈائریکٹر بنا دیں۔

نیب کے گواہ غلام مصطفیٰ پر شہباز شریف کے وکیل کی جرح مکمل ہو گئی جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو جانے کی اجازت دے دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز  لاہور کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، ان کے بیٹے حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 18 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی ۔

منی لانڈرنگ کیس : 

 ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، کرپشن کی روک تھام ایکٹ اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو شوگر اسکینڈل میں منی لانڈرنگ کے کیس کا سامنا ہے۔

شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو ان کی آمدنی کے نامعلوم ذرائع سے مال جمع کرنے میں مدد دی۔

ایف آئی اے نے 13 دسمبر 2021 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کے خلاف 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ عدالت میں جمع کروایا تھا اور دنوں کو مرکزی ملزم نامزد کر دیا تھا۔

قو می احتساب بیورو (نیب) نے 11 جون 2019 کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا۔11 فروری 2020 کو ، لاہور ہائی کورٹ نے غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے معاملات میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔اس ریفرنس میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کو نامزد کیا گیا جس میں 4 منظوری دینے والے یاسر مشتاق، محمد مشتاق، شاہد رفیق اور احمد محمود بھی شامل ہیں۔ تاہم مرکزی ملزمان میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت، ان کے بیٹے حمزہ شہباز (پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر)، سلمان شہباز (مفرور) اور ان کی بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ علی ہیں۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

28 ستمبر 2020 کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے بعد تحویل میں لے لیا گیا۔

شہباز شریف کو اس سے قبل رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کے سلسلے میں 05 اکتوبر 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

11 نومبر 2020 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی۔  احتساب عدالت نے 26 نومبر کو رابعہ عمران، داماد ہارون یوسف اور بیٹے سلیمان شہباز جبکہ 8 دسمبر کو نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ  نے 24 فروری 2021 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو   ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔

Advertisement
امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی

امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی

  • ایک گھنٹہ قبل
پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار مذہبی جوش و خروش سے منا رہی ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار مذہبی جوش و خروش سے منا رہی ہے

  • 7 گھنٹے قبل
 10 دن کا دیاگیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کی دھمکی

 10 دن کا دیاگیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کی دھمکی

  • ایک دن قبل
ایران میں گرنے والے جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

ایران میں گرنے والے جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

  • 7 گھنٹے قبل
 مسافر بسوں کو 1 لاکھ اور منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،شہباز شریف

 مسافر بسوں کو 1 لاکھ اور منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،شہباز شریف

  • 6 گھنٹے قبل
وزیر داخلہ محسن نقوی کی رائیونڈ عالمی تبلیغی مرکز آمد، بھارت اور بنگلہ دیش سےآئے اکابرین سے ملاقات

وزیر داخلہ محسن نقوی کی رائیونڈ عالمی تبلیغی مرکز آمد، بھارت اور بنگلہ دیش سےآئے اکابرین سے ملاقات

  • 4 گھنٹے قبل
اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

  • 7 گھنٹے قبل
 آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ 

 آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ 

  • 2 گھنٹے قبل
صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد

صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد

  • 7 گھنٹے قبل
وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

  • ایک دن قبل
خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے

خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے

  • 4 گھنٹے قبل
منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی

منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی

  • ایک گھنٹہ قبل
Advertisement