ابھا ایک شہری ہوائی اڈہ ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہے اور باغیوں پر جنگی جرم کا الزام لگایا گیا ہے۔


ریاض : سعودی فوج نے سرحد کے قریب ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کو ناکام بناتے ہوئے اسے تباہ کردیا اور تاہ شدہ ڈرون کا ملبہ گرنے سے 12افراد زخمی ہو گئے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون کو ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل ہی تباہ کردیا گیا، یہ پہلا موقع نہیں کہ مذکورہ ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو بلکہ اس سے قبل بھی ایسے کئی حملے کیے جا چکے ہیں۔
حوثیوں نے ایک ٹوئٹ میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یمن کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایسی جگہوں سے دور رہیں۔
حوثی 2015 سے سعودی قیادت میں لڑنے والی اتحادی افواج سے برسر پیکار ہیں کیونکہ عالمی سطح پر تسلیم یمن کی حکومت کو ہٹائے جانے کے بعد سعودی عرب نے فوجی مداخلت کی تھی۔
اس کے بعد سے سعودی اتحاد کے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔ حوثیوں نے اکثر سعودی عرب میں ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات سمیت جیسے اہداف پر ڈرون حملے کیے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں یمن کے باغیوں نے اس اتحاد کے اہم ملک متحدہ عرب امارات پر بھی حملے شروع کیے ہیں جبکہ کیونکہ ان کی فوج کو متحدہ عرب امارات کی تربیت یافتہ افواج کے ہاتھوں میدان جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے کہا کہ سعودی دفاعی فورسز نے ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف داغے گئے ڈرون کو تباہ کر دیا۔ پریس ایجنسی نے مزید کہا کہ بغیر پائلٹ کے طیارے کو روکنے اور تباہ کرنے سے اس کے ملبے سے 12 شہری زخمی ہو گئے جن میں بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، فلپائن اور سری لنکا کے شہریوں کے ساتھ ساتھ دو سعودی باشندے بھی شامل ہیں۔
اس ڈرون حملے کے جواب میں سعودی زیرقیادت اتحاد نے کہا کہ وہ یمن کے باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے جہاں سے حوثی ڈرون لانچ کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ہم صنعا میں شہریوں سے اگلے 72 گھنٹوں کے لیے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی شہری جگہوں کو خالی کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایجنسی کو بتایا کہ تباہ شدہ ڈرون کے کچھ ٹکڑے ہوائی اڈے کے اندرونی حصے میں بکھر گئے۔
انہوں نے کہا کہ ابھا ایک شہری ہوائی اڈہ ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہے اور باغیوں پر جنگی جرم کا الزام لگایا گیا ہے۔
ابھا سعودی عرب کے جنوب مغربی پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں سعودی باشندے اور تارکین وطن ملک میں پڑنے والی شدید گرمی سے بچنے کے لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے حملوں سے ناصرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے بلکہ سعودی عرب اور خطے کی امن و سلامتی کو بھی خطرہ ہے۔
دفتر خارجہ نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں حوثیوں کے حملوں سے اپنے عوام اور سرزمین کے دفاع کے لیے سعودی عرب کی حمایت کے امریکی عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 19 گھنٹے قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 2 دن قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- ایک دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 2 دن قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- ایک دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- ایک دن قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 2 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- ایک دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 19 گھنٹے قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 2 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- ایک دن قبل
کپتان کا لاپتا پالتو کتا آخرمل ہی گیا
- 2 دن قبل



