Advertisement
پاکستان

جلدیا  دیر طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ہے،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جلدیا  دیر طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ہے،  طالبان اس ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کو مغرب سمجھتا نہیں۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Feb 14th 2022, 2:01 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
جلدیا  دیر طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ہے،وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی سی این این کو  انٹرویو میں کہا ہے کہ  کیا طالبان کے علاوہ دیگر کوئی متبادل اس وقت موجود ہے، امریکی عوام کو لازماً سمجھنا چاہیے کہ طالبان حکومت ناپسند کرنا ایک بات ہے،اگلے چند ماہ کے حوالے سے افغان عوام کیلئے ہر کوئی فکر مند ہے،  افغانستان کی سردی بہت ظالم اور بے رحم ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  افغانستان کو انتشار میں نہیں جانا چاہیے، یہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے، جلدیا  دیر طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ہے،  طالبان اس ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کو مغرب سمجھتا نہیں، افغانستان کی آدھی آبادی بحران کے قریب ہے،

 وزیراعظم عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ  امریکا کی دہشتگردی کیخلاف جنگ نے حقیقت میں دہشتگرد پیدا کیے، امر یکا  کوڈرون حملوں کی پالیسی پرنظر ثانی کرنا ہو گی،  امریکی حملوں کی قیمت ہمیں ادا کرنا پڑی ، کیونکہ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا، دنیا جو چاہتی ہے وہ صرف طالبان کو مراعات دے  کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  طالبان کے ساتھ کچھ لو ، کچھ دو کرنا ہو گا،  اگر طالبان سے  منہ موڑلیاجاتا ہے توپھرخدشہ ہے کہ افغانستان افراتفری کاشکارہوسکتا ہے، اگر ہمارے پاس کچھ موجود ہے تو وہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ کام کرناہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ   کشمیر پاکستان اوربھارت میں متنازعہ علاقہ ہے، مقبوضہ کشمیر  میں   مظلوم کشمیروں کا قتل عام جاری ہے، بھارت نے  مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ فوج تعینات کررکھی  ہے، بھارتی اقدام  اقوام متحدہ کی  قراردادوں  کی خلاف ورزی ہے،پلوامہ میں جوہوا بھارت اس کا الزام پاکستان پر لگا تا ہے ۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ  جوکچھ ہورہا ہے وہ بھارت کے اپنے خطرناک اورنقصان دہ ہے، پاکستان کے سفیر نےچین کے صوبےسنکیانگ  کادورہ کرکے جائزہ لیا، مغربی میڈیا میں چین کا درست تصور پیش نہیں کیا جاتا،  مغربی میڈیا کے مطابق دنیا ایک کولڈوار کی جانب جارہی ہے ۔

Advertisement