Advertisement

میانمارمیں خونی مظاہرےنہ تھم سکے، فائرنگ سے مزید 7 مظاہرین ہلاک

میانمارمیں خونی مظاہرےنہ تھم سکے،شہرشہرریلیوں اوراحتجاج پرفائرنگ سےمزید7مظاہرین ہلاک ہوگئے۔فوج نےنیابیان جاری کرتےہوئےایک مرتبہ پھریقین دہانی کرائی کہ حکمران فوجی کونسل صرف مخصوص مدت کے لئے ہے انتخابات کرواکراقتدارفاتح پارٹی کو سونپ دیاجائےگا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 12th 2021, 10:10 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  میانمارکےمختلف شہروں میں مظاہرین بدستورسڑکوں پرہیں سیکیورٹی فورسز نےغیرمسلح مظاہرین کے خلاف طاقت کابےدریغ استعمال کیااورفائرنگ ،دستی بم اورآنسو گیس کی شیلنگ کی۔

میانمارکی جنتا کےترجمان  نےنئےالزامات عائدکرتےہوئےکہاکہ آنگ سان سوچی نے حکومت  کےدوران 6 لاکھ ڈالر زکی ادائیگی کے علاوہ غیرقانونی  طور پرسونا قبول کیا، جبکہ صدر اورمتعدد وزراء  نےالیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا  کہ فوج کی  جانب سےالیکشن بے ضابطگیوں کی اطلاعات  پرکان نہ دھریں۔

دوسری جانب  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے  فوج پر مظاہرین اور عام شہریوں کے خلاف  جنگی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی اورکہاکہ  ایسے ہتھیاروں کے استعمال کا اندازہ  مظاہروں کی 55 ویڈیوز دیکھنے کے بعد لگایا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے  مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کرنے اور فوجی پابندی کی اپیل کے بیان پر اتفاق کرلیا۔

برطانوی مسودے کو باضابطہ طور پر کونسل کے اجلاس میں  منظورکیاگیا۔اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژانگ جون  کہتےہیں ،یہ سفارتکاری اور مذاکرات کا وقت ہے۔امیدہےسیکیورٹی کونسل کا پیغام میانمار میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے میانمار کے فوجی سربراہ  کے دو بچوں  اورچھ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں۔ادھرمیانمارکی فوج  نے ،باغی گروپ اراکن آرمی  کودہشت گرد گروہوں کی فہرست سے ہٹادیا۔

 

Advertisement