لاہور ہائیکورٹ میں مریم نوازکی ضمانت منسوخی کیلئے نیب کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
لاہور : قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی درخواست ضمانت خارج کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ، عدالت نے نیب کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی ۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دورکنی بینچ 15 مارچ کو کیس کی سماعت کرے گا ۔ نیب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں پراسکیوٹر جنرل نیب کی وساطت سے درخواست دائر کی گئی ۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز لاہور ہائیکورٹ سے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا ہیں، لیگی رہنما طلبی کے باجود پیش نہیں ہوتیں، مریم نواز اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں،ان کیخلاف چودھری شوگر ملز سمیت دیگر انکوائریز پر تحقیقات جاری ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ مریم نواز ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود نیب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ مریم نواز کی ضمانت منسوخ کی جائے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں ملک میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔نیب نے تفتیش سے پتا چلایا کہ چوہدری شوگر ملز میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہل خانہ کے علاوہ کچھ غیر ملکی بھی شراکت دار ہیں۔
ذرائع کے مطابق چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں حصص دیے گئے۔بعد ازاں وہی حصص مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے۔ اس ضمن میں نیب نے سب سے پہلے مریم نواز کو 31 جولائی کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا اور انہوں نے 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے۔اس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات اور مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چوہدری شوگر مل کیس میں نیب نے 8 اگست کو مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپسی پر جیل کے باہر سے ہی گرفتار کرلیا تھا اور اسی روز ان کے کزن یوسف عباس کو بھی گرفتار کیا گیا تھا بعد ازاں 25 ستمبر 2019 کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے 30 ستمبر کو اسی کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم اکتوبر کے اواخر میں ان کے والد نواز شریف کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی جس کے باعث انہوں نے 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر فوری رہائی کے لیے متفرق درخواست دائر کردی تھی۔
عدالت عالیہ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن انہیں اپنا پاسپورٹ اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا کہا گیا تھا، بعد ازاں نیب نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا تھا۔اسی اثنا میں مریم نواز نے اپنے پاسپورٹ کی واپسی اور بیرون ملک جانے کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات
- 3 دن قبل

سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 2 دن قبل
پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق
- 17 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ
- 3 دن قبل
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو
- 5 دن قبل

پنجاب کے مختلف شہروں میں تھیٹرز کے خلاف بڑا ایکشن، 8 اداکاراؤں پر پابندی
- 2 دن قبل
پرائیویٹ حج اسکیم کی بکنگ کے حوالے سے وزارت کا نیا بیان سامنے آگیا
- 2 دن قبل

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار
- 2 دن قبل
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا
- 4 دن قبل

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی
- 2 دن قبل
شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف
- 3 دن قبل
دوسری شادی کیوں کی؟ سینئر اداکار نےوجہ بتادی
- 2 دن قبل


