جوازات کی جانب سے گمشدہ کارڈ کے بدلے میں دوسرا کارڈ جاری کرانے کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔


ریاض : سعودی عرب میں غیرملکیوں کو جاری کیے جانے والے رہائشی پرمٹ کو اقامہ کہا جاتا ہے۔
اقامہ کارڈ پہلے پانچ برس کے لیے جاری کیا جاتا تھا تاہم دو برس قبل نئے اقامہ کارڈز پر ایکسپائری کی تاریخ ختم کر دی گئی ہے جس کے بعد اقامہ کارڈ دوبارہ پرنٹ کرانے کی ضرورت نہیں البتہ کارڈ کی تجدید سالانہ بنیاد پر سسٹم کے ذریعے مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد کی جاتی ہے۔
اقامہ کارڈ کی گمشدگی پر دوسرا کارڈ حاصل کرنے کی کارروائی کی جاتی ہے جسے عربی میں ’بدل فاقد‘ یعنی گمشدہ کارڈ کے بدلے میں دوسرے کارڈ کا اجرا کہا جاتا ہے۔
گمشدہ کارڈ کے بدلے میں نیا کارڈ جاری کرانے کے حوالے سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ’میرا اقامہ کارڈ گم ہوگیا ہے دوسرا کارڈ حاصل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، کیا جرمانہ ادا کرنا ہوگا؟‘
جوازات کی جانب سے گمشدہ کارڈ کے بدلے میں دوسرا کارڈ جاری کرانے کا طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔ اقامہ کارڈ گم ہونے پر دوسرا کارڈ حاصل کرنے کے لیے جرمانے کی ادائیگی لازمی ہے۔
اقامہ کارڈ گم کرنے کی صورت میں ایک ہزار ریال جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ جوازات کی جانب سے مقررہ کردہ ضوابط کے تحت اقامہ کارڈ گم ہونے پر اس کے بارے میں سب سے پہلے جوازات کے متعلقہ شعبے کو مطلع کرنا ضروری ہے کہ وہ علاقے جہاں جوازات کے ذیلی دفاتر نہیں وہاں علاقے کے پولیس سٹیشن میں اقامہ گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جائے۔
رپورٹ درج کراتے وقت کارڈ گم ہونے کے مقام کی بھی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ جرمانے کی ادائیگی اور جوازات کو مطلع کرنے کے بعد اقامہ ہولڈر کے سپانسر کی جانب سے جوازات کو درخواست دینا ہوتی ہے جس میں دوسرا اقامہ کارڈ جاری کرنے کے حوالے سے وضاحت درج کرتے ہوئے اقامہ گم ہونے کے مقام اور تاریخ کی بھی وضاحت کی جائے۔
جوازات کو دی جانے والی درخواست کے ساتھ جس کا اقامہ گم ہوا ہے اس کے پاسپورٹ اور گمشدہ اقامہ کی کاپی ( اگردستیاب ہو) بھی لگائی جائے۔
جوازات کے ادارے میں اقامہ گم ہونے پر دوسرا کارڈ حاصل کرنے کے لیے مقررہ فارم موجود ہوتا ہے جسے بھر کر درخواست اور پاسپورٹ کی فوٹو کاپی کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
اگر گم شدہ اقامہ کی مدت میں ایک برس یا اس سے کم وقت باقی ہے تو ایک برس کی فیس ادا کی جائے گی جو پانچ سو ریال ہوتی ہے۔ یہ فیس جرمانے کی رقم کے علاوہ ہو گی۔
واضح رہے کہ جوازات کے قانون کے مطابق سعودی عرب میں ورک ویزے پر رہنے والے کارکن اپنے اقامے کے معاملات کے لیے خود جوازات کے دفتر سے رجوع نہیں کرسکتے بلکہ کارکن کا سپانسر یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ جسے سپانسر کی جانب سے مختار نامہ جاری کیا گیا ہو وہ ہی جوازات کے دفتر سے رجوع کرکے کارکن کے اقامہ یا دیگر معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے البتہ غیر ملکی کارکنوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی زیر کفالت اہل خانہ کے اقامہ کی تجدید یا دیگر معاملات کے حل کے لیے جوازات کے ادارے سے رجوع کریں۔

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان
- 2 hours ago
’عمران خان کو صحت مند قرار'، عطا تارڑ نے پمز اسپتال میں معائنے اور واپسی اڈیالہ جیل منتقلی کی تصدیق کردی
- a day ago

بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک اور مشکل
- 2 days ago
ملک بھرمیں اچانک تعطیل کا اعلان، کس دن چھٹی ہو گی؟
- a day ago

کیا ٹک ٹاک پر اب رقم بھی بھیجی جا سکے گی؟
- 2 days ago
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
- 3 minutes ago

عمران خان کی اسپتال منتقلی، پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
- an hour ago
پنجاب: اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نیا شیڈول جاری
- an hour ago

سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- a day ago

لاہور: پاسپورٹ آفس سے چار ملزمان گرفتار
- a day ago
چارٹر طیارہ حادثے کا شکار، دو پائلٹ سمیت 8 افراد ہلاک
- a day ago
عمران خان سخت سکیورٹی میں اڈیالا جیل سے شفا اسپتال روانہ
- 2 days ago


