آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ، سپریم کورٹ میں سماعت جاری ،پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے صدارتی ریفرنس پر جواب جمع کروا دیا
پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب جمع کرادیا ہے


اسلام آباد : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر سماعت کر رہاہے ، بینچ میں جسٹس اعجازالحسن،جسٹس مظہرعالم میاں خیل ۔جسٹس منیب اختراورجسٹس جمال مندوخیل شامل ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیاہے ، جس میں حکومتی جماعت کا کہناتھا کہ ووٹ اجتماعی ہے، ممبر پارٹی سے ہٹ کر ووٹ نہیں دے سکتا، اکیلا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا، اگر کوئی منحرف ہو جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔تحریک انصاف کی جانب سے جواب سینیٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ میں جمع کرایا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب جمع کرادیا ہے، جواب سینیٹر فاروق نائیک کے زریعے جمع کرایا گیا۔جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس آر ٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اگر اس صدارتی ریفرنس کے تحت فیصلہ یا رائے دی گئی تواپیل کا حق بھی متاثر ہوگا۔ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، یہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں، واپس کیا جائے۔ رکن اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے 63 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی صدارتی ریفرنس پر جواب جمع کرادیا، جواب لطیف کھوسا کے ذریعے جمع کرایا گیا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی گزشتہ سماعت والا مسئلہ ہے ، مناسب ہو گا کہ وکلاءاور دیگر افراد باہر چلے جائیں ۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے معاملے پرصوبوں کونوٹس جاری کررہے ہیں، خیبرپختونخوااورسندھ کے ایڈووکیٹ جنرلزموجودہیں، اگررش کم نہ کیاگیاتوکسی کودلائل کی اجازت نہیں دیں گے۔
چیف جسٹس کا کہناتھا کہ سکرین بھی فکس کریں گے تاکہ باہرکارروائی دیکھی جاسکے، سیاسی جماعتوں کونوٹس کیے تھے وہ آج موجودہیں، کیاصوبائی حکومتوں کوبھی نوٹس جاری کریں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بارکی درخواست میں سپیکرقومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہے توصوبوں کونوٹس جاری کرسکتی ہے، صوبوں میں موجودسیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کاحصہ ہیں۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کوبھی صدارتی ریفرنس پرنوٹس جاری کردیئے۔ رضا ربانی نے عدالت میں کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کوبعدمیں سنیں گے،بیٹھ جائیں۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کے حکم پر گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا ۔
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ، سپریم کورٹ میں سماعت جاری ،پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے صدارتی ریفرنس پر جواب جمع کروا دیا

ہتک عزت کیس: عدالت نےگلوکارہ میشا شفیع کو8سال پرانے کیس میں 50 لاکھ جرمانہ عائد کر دیا
- 6 گھنٹے قبل

مذہب کی جبری تبدیلی پر 5 سال قید کی سزا تجویز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع
- 2 گھنٹے قبل

سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری، آج پھر ہزاروں روپے مہنگا
- 8 گھنٹے قبل

پاکستان ،ترکیہ ،قطرسمیت 8 مسلم ممالک کی مقبوضہ بیت المقدس میں عبادت پر پابندیوں کی شدید مذمت
- 6 گھنٹے قبل

حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گرا دیا،ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپےفی کلو اضافہ
- 3 گھنٹے قبل

بال ٹیمپرنگ کا معاملہ: فخر زمان پر پی ایس ایل کے 2 میچز کی پابندی عائد
- 6 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ:پاکستان اور چین کا مشرق وسطیٰ اور خلیج میں قیام امن کے لیے 5 نکاتی اقدام کا اعلان
- ایک گھنٹہ قبل

اسلام آباد میں معروف تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلیا،طلال چوہدری
- ایک گھنٹہ قبل

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا، ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
- 3 گھنٹے قبل

اسحا ق ڈار کا دورہ بیجنگ: ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، چین
- 8 گھنٹے قبل

لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری سے موسم خوشگوار
- 3 گھنٹے قبل

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت
- 2 گھنٹے قبل











