لاہور ہائیکورٹ کی وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کیلئے صدر کو کوئی اور نمائندہ مقررکرنیکی ہدایت
ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ گورنرپنجاب کےحلف نہ لینے پراسپیکرحلف لے سکتاہے اور درخواست میں اسپیکرکوفریق نہیں بنایاگیا۔


لاہور ہائیکورٹ نے صدر مملکت کو وزیراعلیٰ پنجاب کے حلف کے لیے کسی اور کو نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب کے نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی حلف برداری کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ گورنرپنجاب کےحلف نہ لینے پراسپیکرحلف لے سکتاہے اور درخواست میں اسپیکرکوفریق نہیں بنایاگیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ گورنرسمجھتے ہیں وزیراعلیٰ کا انتخاب آئین کےتحت نہیں ہوا، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ کہاں لکھا ہےکہ گورنر الیکشن کوجاکردیکھے گا؟
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اپنایا کہ گورنر کوئی ربڑ اسٹیمپ نہیں، غیرمعمولی صورتحال ہوئی جوپہلے کبھی نہیں ہوئی، ایک خاتون رکن زخمی ہوئیں، وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ تو کیا اس واقعے سے ہاؤس کی پروسیڈنگ ختم ہو جائے گی، آج 21 دن ہوگئے صوبے میں کوئی حکومت نہیں جب کہ یہ الیکشن بھی عدالت کے حکم پر ہوا ہے، الیکشن کیسے ہوا یہ عدالت جانتی ہے، گورنر بتائیں کہ وہ غیرحاضر ہیں یاحلف نہیں لے سکتے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گورنر نے حلف لینے سے انکار کر دیا ہے اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ لکھ کر دے دیں کہ گورنر نے حلف سے انکار کردیاہے تاکہ ہم حلف کے لیے کسی اور کو کہہ دیں۔
عدالت نے کہا کہ 11 بجے تک گورنرسے لکھوا کرعدالت میں پیش کریں، اگر گورنر نے انکار لکھناہے تو عدالت کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کے نام لکھیں۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت 11 بجے تک ملتوی کی جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر عدالت نے گورنرپنجاب کو حمزہ شہباز کی حلف برداری پرانکار کے لیے تحریری طور پرآگاہ کرنے کے فیصلے کیلئے دو بجے تک کی مہلت دیدی ۔
عدالت نے کہا کہ گورنر نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت حکم جاری کرے گی ،آج 21 دن ہوگئے صوبے میں کوئی حکومت نہیں، گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے، اگرگورنرآئین کی قدر نہیں کررہے تو عدالت بھی انہیں قابل احترام کہنا مناسب نہیں سمجھے گی، اگر گورنر انکار کا خط نہیں لکھتے تو عدالت دو بجے حکم دے گی۔
دو بجے کے بعد عدالت میں جب سماعت شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر پنجاب 24 گھنٹے کے اندر حلف نہ لینے کی وجوہات صدر کو لکھ دیں گے، اس پر حمزہ شہباز کے وکیل اشتر اوصاف نے کاہ کہ گورنر آئین کی رو سے انکار نہیں کرسکتا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اس پر کہا کہ آئین کے تحت گورنر کے پاس انکار نہیں ہوسکتا، وہ اب اپنا فیصلہ لکھوا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے فیصلہ لکھوایا کہ چونکہ گورنر نے وزیراعلیٰ سے حلف لینے سے معذوری ظاہر کردی ہے لہٰذا حلف کے لیے صدر کسی اور کو نمائندہ مقرر کریں کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف لیں۔
چیف جسٹس نے ہائیکورٹ آفس کو ہدایت کی کہ صدر کو عداالتی فیصلے سے آگاہ کریں۔
امریکی ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، حادثہ کہاں پیش آیا؟
- ایک دن قبل

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی بولرز رینکنگ: ابرار احمد پہلی بار نمبر ون بولر بن گئے
- 11 گھنٹے قبل

ایشین گیمز: پاکستان کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے دوسری کامیابی اپنے نام کر لی
- 2 دن قبل

پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بڑھ کر مضبوط اتحاد
- 16 گھنٹے قبل
پنجاب میں دفعہ 144 نافذ، 5 سے زائدافراد کے اجتماع پرپابندی عائد
- 14 گھنٹے قبل

پاکستان نےلیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کومکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا
- 11 گھنٹے قبل

پاکستان نےافغانستان سے آنے والے تمام ڈرونز مار گرائے
- 14 گھنٹے قبل

بہاولپور:اپنے باپ کو زہر دینےکیلئے اے آئی سے طریقہ پوچھنے والا 17 سال کا نوجوان گرفتار
- 9 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل بڑی کمی
- 12 گھنٹے قبل
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کا رجحان جاری
- ایک دن قبل

بلوچستان میں مسلح افراد کا مند کے کسٹمز اسٹیشن پر حملہ، دفتر کو آگ لگادی، سپاہی زخمی
- ایک دن قبل

سیالکوٹ چیمبرکے انتخابات، پی ٹی آئی کینیڈا کی اوورسیز بزنس کمیونٹی کا نو منتخب عہدیداران کوکامیابی پر مبارک باد
- 12 گھنٹے قبل





