جی این این سوشل

تجارت

وزیر خارجہ  کی امریکی نمائندہ خصوصی برائے کمرشل و کاروباری امور سے ملاقات

واشنگٹن : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے کمرشل و کاروباری امور دلاور سید سے ملاقات کی۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیر خارجہ  کی امریکی نمائندہ خصوصی برائے کمرشل و کاروباری امور سے ملاقات
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

دفتر خارجہ کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں وزیر مملکت حنا ربانی کھر ، امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات میں پاکستان میں سیلاب کی صورتحال ، سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے حوالے سے اقدامات ، امریکی معاونت اور پاک امریکہ تجارتی تعلقات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ 

ملاقات کے موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ سیلاب کے دوران امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ معاونت کو سراہا۔

ملاقات میں پاک امریکہ دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 امریکی نمائندہ خصوصی برائے تجارتی امور دلاور سید نے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

ٹیکنالوجی

وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے ادائیگیاں کرنے اور ٹائم فریم دینے کیلئے مراسلہ جاری کردیا

 حکومت گوگل کو ادائیگی پر رضا مند ہو گئی ۔  صارفین کے لیےموبائل اکاؤنٹ کی مدد سے گوگل پلے سٹور تک رسائی  معطل نہیں ہو گی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے  ادائیگیاں کرنے اور ٹائم فریم دینے کیلئے مراسلہ جاری کردیا

 

وزارت خزانہ اسحاق ڈار نے وزیر آئی ٹی امین الحق کی تجویز مان لی۔ حکومت  گوگل کو ادائیگی پر راضی ہو گئی۔ وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا ہے کہ ادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہونگی۔

وزیر آئی ٹی امین الحق سے معاون خصوصی خزانہ طارق باجوہ  نے رابطہ کیا ہے۔ امین الحق کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو ہدایت کردی گئی کہ ایک ماہ تک پالیسی پر عملدرآمد مؤخر کردیں۔ٹیلی کام آپریٹرز کو ادائیگیوں کے طریقہ کار پر عمل کیلئے ایک ماہ کا وقت دیدیا گیا۔

ایک ماہ میں وزارت آئی ٹی، خزانہ اور اسٹیٹ بینک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل مرتب کریں گے۔ٹیلی کام آپریٹرز نے وزارت آئی ٹی سے معاملے پر معاونت کی اپیل کی تھی۔وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو ادائیگیاں کرنے اور ٹائم فریم دینے کیلئے مراسلہ لکھا تھا۔

پاکستان کے سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈائریکٹ کیریئر بلنگ  یعنی براہ راست  ادائیگیوں کے نظام کو معطل کرنے کا فیصلہ کیاگیا تھاجس کے بعد پاکستانی صارفین اپنے موبائل فون اکاؤنٹ میں موجود رقم کے ذریعے گوگل پلے سٹور سے اپلیکیشنز ڈاون لوڈ نہیں کر پاتے۔

 فیصلے پر عملدر آمد کی صورت میں صارفین کو ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے گوگل پلے سٹور سے ایپس ڈاون لوڈ کرنا پڑتی۔

 ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں اس کی نشاندہی کی گئی تھی کہ ادائیگی کے اس نظام کی معطلی سے پاکستان میں عالمی اداروں گوگل، ایمازون اور میٹا وغیرہ کی جانب سے پیش کی جانے والی خدمات متاثر ہوں گی اور اس سے ملک کے ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 جس کے بعد حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایک ماہ کے لیے گوگل کو ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ماہ کے اندر  ادائیگیوں کے طریقہ کار پر پالیسی مرتب دی جائے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاک انگلینڈ کرکٹ میچ:پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

راولپنڈی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچز سے متعلق ٹریفک اور پارکنگ پلان جاری کردیا گیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاک انگلینڈ کرکٹ میچ:پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

ٹریفک پولیس کے مطابق میچز کے دوران ٹریفک پولیس کے 432 اہلکار تعینات ہوں گے۔

ٹریفک پولیس کے جاری کیے گئے پلان کے مطابق پہلی پارکنگ سی اے اے گراﺅنڈ اور دوسری گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز ففتھ روڈ پر ہوگی۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ کو پارکنگ اسٹینڈ سے اسٹیڈیم تک شٹل سروس مہیا کی جائے گی۔

کرکٹ ٹیموں کی آمد اور روانگی پر فیض آباد سے ڈبل روڈ تک مری روڈ بند ہوگا جبکہ دوران میچ اسٹیڈیم روڈ کو دونوں اطراف سے مکمل بند رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ راولپنڈی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے یکم دسمبر کی تاریخ طے ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 

وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔

اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll