جینیوا: عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو آئیویلانے خبردار کیا ہے کہ پے در پے بحرانوں کے باعث دنیا تیزی سے عالمی کساد باری کی طرف بڑھ رہی ہے، دنیا کو غیر یقینی صورتحال اور متعدد بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں روس یوکرین تنازعہ ، صحت، اقتصادی، ماحولیاتی بحران شامل ہیں۔


خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او ) کے سالانہ پبلک فورم کے موقع پر خطاب میں ڈبلیو ٹی او کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو آئیویلا نے کہا کہ میرے خیال میں ہم عالمی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم یہ وقت ہے یہ سوچنے کا کہ ہم اس سے باہر کیسے نکلیں گے ، ہم کو پیداوار کو بحال کرنے اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) نے بھی ملتے جلتے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال عالمی معیشت کو اس سے بڑھ کر ضرب لگ سکتی ہے جس کا خدشہ گزشتہ سال ظاہر کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے روس یوکرین جنگ کے اثرات ہیں۔
او ای سی ڈی کی رپورٹ جس کا عنوان جنگ کی قیمت کی ادائیگی ہے میں بتایا گیا ہے کہ اس تنازع نے عالمی سطح پر تیزی سے افراط زر کو بڑھایا۔
او ای سی ڈی کے سیکرٹری میتھیس کورمین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دنیا روس کے یوکرین پر حملے کی بہت بڑی قیمت ادا کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق اخراجات بڑھنے اور قوت خرید متاثر ہونے کے باعث کاروباری اداروں اور عام افراد کو بھی نقصان کا سامنا ہے۔
کورونا کی عالمی وبا کے بعد یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں ۔ یوکرین اور روس دونوں ہی ماضی میں ایندھن کے علاوہ خوراک کے سامان کی پیداوار کے لیے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں تاہم جنگ کی وجہ سے ان کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جس سے دنیا کے کئی حصوں میں خوراک کے بحران نے سر اٹھایا ہے۔
ماہرین پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر بحرانوں کو نہ روکا گیا تو صورت حال کساد بازاری کی طرف چلی جائے گی جبکہ اب عالمی ادارہ برائے تجارت نے اس خطرے کا واضح الفاظ میں اظہار کر دیا ہے۔

اسحا ق ڈار کا مصری و ازبک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
- 11 hours ago

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی
- 13 hours ago

ایران جنگ:اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رحجان ، 100 انڈیکس 3500 پوائنٹس گرگیا
- 13 hours ago

امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے،جارحیت کا مقابلہ کرنے ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں،ایران
- 18 hours ago

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی
- 11 hours ago

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- 16 hours ago

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- 17 hours ago

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- 17 hours ago

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- 15 hours ago

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- 16 hours ago

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 17 hours ago

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 16 hours ago










