اسلام آباد: خاتون جج سے متعلق ریمارکس پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔


تفصیلات کے مطابق توہین عدالت کیس کی سماعت آج دن ڈھائی بجے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ کرے گا ۔ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سماعت کے دوران ضابطہ اخلاق کا سرکلر بھی جاری کر چکی ہے ، کمرہ عدالت نمبر ایک میں انٹری رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی۔
یکم اکتوبر کو عمران خان عدالتی حکم پر بیان حلفی جمع کرا چکے ہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے بیان حلفی میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت کے سامنے جو کہا اس پر مکمل عمل کروں گا ، عدالت اطمینان کے لیے مزید کچھ کہے تو اس پر مزید عمل کرنے کے لیے تیار ہوں۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دوران سماعت احساس ہوا 20 اگست کو تقریر میں شاید ریڈ لائن کراس کی ، اگر جج کو یہ تاثر ملا کہ ریڈ لائن کراس ہوئی تو معافی مانگنے کو تیار ہوں ۔ عمران خان نے اپنے بیان حلفی میں عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے عمران خان کے خاتون جج سے معافی کے لیے رضامندی ظاہر کرنے پر فرد جرم عائد نہیں کی تھی ۔
اس سے قبل عمران خان خاتون جج زیبا چوہدری کی عدالت میں بھی پیش ہوئے تھے اور ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جج زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا کہ عمران خان معافی مانگنے آیا تھا۔
دوسری جانب گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 10ہزار کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی ۔ عدالت نے7 اکتوبر کو سابق وزیراعظم کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔
یاد رہے کہ 22 ستمبر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنے بیان پر معافی مانگ لی تھی جس کے بعد عدالت نے عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی موخر کردی تھی ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے 3 اکتوبر تک سماعت ملتوی کر دی تھی ۔
اس سے قبل عدالت نے عمران خان کی جانب سے دو مرتبہ جمع کرائے گئے جوابات کو مسترد کرتے ہوئے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ خاتون جج ریمارکس سے متعلق توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئر مین پی ٹی آئی کو غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے دو مواقع فراہم کیے تھے تاہم عمران خان نے غیر مشروط معافی مانگنے کے بجائے اپنے الفاظ واپس لینے اور آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنے کا جواب عدالت میں جمع کرایا۔
خیال رہے کہ 8 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کی تھی۔

وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیر قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی
- an hour ago
.jpeg&w=3840&q=75)
پنجاب حکومت کا فلم سٹی اتھارٹی کے قیام فیصلہ،ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کا خیر مقدم
- 3 hours ago

وزیر اعلیٰ سہیل آفرید ی نے پشاور رنگ روڈ مسنگ لنک پیکج ون کا افتتاح کر دیا
- an hour ago

وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط
- 5 hours ago

بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ،محکمہ صحت کی تصدیق
- 5 hours ago

گلوکارہ مون پرویز نے اپنے نئے ویڈیو سونگ پر کام شروع کر دیا
- 4 hours ago
صدر زرداری کاعراق کے نامزد وزیرِ اعظم سے ٹیلی فونک رابطہ، عراق میں مستحکم حکومت کی تشکیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
- 5 hours ago

ایران کے پاس 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے،ایٹمی ایجنسی
- 5 hours ago

امریکی ریاست ٹیکساس میں چھوٹا طیارہ گرکرتباہ،5 افراد جاں بحق
- 13 minutes ago

اسلام آباد مذاکرات: ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے نئی تجاویز بھجوا دیں ،ایرانی میڈیا
- 3 hours ago

پی ایس ایل ایلیمینیٹر:اسلام آباد یونائیٹڈ کا حیدرآباد کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- 2 hours ago

پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز 2.5 لاکھ تک پہنچ گئے، 80 فیصد مریض علاج سے محروم ،بچوں میں پھیلاؤ تشویشناک
- 3 hours ago


.webp&w=3840&q=75)




.jpeg&w=3840&q=75)

