لز ٹرس نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔


ان کے اقتصادی پروگرام کی وجہ سے ان کی تقرری کے صرف چھ ہفتے بعد ان کی کنزرویٹو پارٹی تقسیم ہوگئی تھی ،
برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ جمعرات کو اپنے مستقبل کے بارے میں فوری طور پر ایک بیان دیں گی۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے وزارت داخلہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ ایک ہفتے کے دوران میں وزیر اعظم لز ٹرس کی کابینہ سے دوسرا اہم استعفیٰ ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر خزانہ مستعفی ہو چکے ہیں۔ سویلا بریورمین صرف 43 دن وزیر داخلہ رہیں۔
برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس کو اقتدار میں آنے کے فوری بعد ہی اپنی حکومت کے ڈولنے جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر داخلہ کے استعفیٰ سے لز ٹرس کی حکومت پر زیادہ دباو آ سکتا ہے۔
مستعفی ہونے والی وزیر داخلہ بریو مین نے اپنے استعفے کی وجہ ایک ٹوئٹ میں بیان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'مجھ سے غلطی ہوئی اور میں اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔ اس لیے مستعفی ہورہی ہوں۔' وزیر داخلہ نے یہ بات وزیر اعظم کے نام اپنے ٹوئٹ کے ذریعے بھیجے گئے مختصر پیغام میں کی ہے۔
اپنی غلطی کی وضاحت کرتے ہوئے بریو مین نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری دستاویز اپنے نجی ای میل ایڈریس کے ذریعے اپنے ایک پارلیمانی ساتھی کو بھیجی ہے۔ یہ قواعد کی ایک تکنیکی غلطی تھی۔ اس غلطی کے بعد میرا مستعفی ہونا میرے لیے زیادہ بہتر تھا۔'
تاہم انہوں نے اس بارے میں قواعد اور غلطی کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ واضح رہے برطانوی وزیر اعظم لز ٹرس نے چھ ستمبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی کنزرویٹو پارٹی کے نسبتا آزادی پسند ونگ کے سینئیر لوگوں کو کابینہ میں لیا تھا۔
مگر وہ جلد ہی تباہ حال معیشت کی وجہ سے اپنے پہلے مقرر کیے گئے وزیر خزانہ کو ہٹانے اور اس کی جگہ جیریمی ہنٹ کو لانے پر مجبور ہو گئیں۔ اب وزیر داخلہ سویلا بریورمین بظاہر اپنی تکنیکی غلطی کی وجہ سے مستعفی ہوئی ہیں مگر اس استعفیٰ کی دیگر وجوہات بھی موجود ہیں۔
مبصرین کے خیال میں لز ٹرس کے لیے اپنی حکومت کو زیادہ دیر کے لیے بچائے رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اب بریومین کی جگہ وزارت داخلہ کا قلمدان رشی سنک کے قریبی کو ملنے کا امکان ہے۔ جبکہ رشی سنک کو از سر نو وزارت عظمیٰ کے لیے ایک فیورٹ کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے ۔

وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس، ملکی سیکیورٹی اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر غور
- 19 گھنٹے قبل

محسن نقوی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات،ملکی سیکیورٹی اور مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

کویت میں متعددلڑاکا طیارے گر کر تباہ،ایران کا امریکی ایف 15 گرانے کا دعویٰ
- 13 منٹ قبل

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر پاکستان کا ہر شہری غمزدہ ہے،محسن نقوی
- ایک دن قبل

آپریشن غضب للحق جاری، سیکیورٹی فورسز کاافغان طالبان کی مرکزی پوسٹ پر کنٹرول حاصل
- ایک دن قبل

پاک فوج ملک میں ہاکی سمیت تمام کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں
- 20 گھنٹے قبل

پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف تابڑ توڑ کارروائیاں جاری، ایمونیشن ڈپو اور ڈرون اسٹوریج سائٹ تباہ
- 7 منٹ قبل

شو مین آف لالی وڈ سید نور اور سپر اسٹار اداکارہ صائمہ نور کا افطار ڈنر
- چند سیکنڈ قبل

پاکستان کی حکومت اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ شریک ہیں،وزیر اعظم
- 19 گھنٹے قبل

خطے میں کشیدگی کے باعث وزیراعظم کا دو روزہ دورہ روس منسوخ، سیکیورٹی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب
- ایک دن قبل

دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ،ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد
- ایک دن قبل

آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر، کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دیگی
- ایک دن قبل









.jpg&w=3840&q=75)



