Advertisement
پاکستان

پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ

اسلام آباد : : پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 7th 2021, 3:05 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

 ذرائع پیپلز پارٹی  کے مطابق چئیرمین  پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پارٹی کے سینئر رہنماوں کو جواب تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔ شیری رحمان ، راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابراور نیر بخاری سمیت دیگر شوکاز نوٹس کا جواب تیار کریں گے۔ جس کے بعد جوابی ڈرافٹ حتمی منظوری کے لیے سابق صدر آصف علی زرداری،  چیئرمین بلاول بھٹو کو بھجوایا جائے گا۔ اس حوالے سے پی پی پی رہنما نیئر بخاری کہتے ہیں پی ڈی ایم سیاسی اشتراک ہے کوئی کمپنی یا ادارہ نہیں، پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ اتحاد کا شیرازہ بکھرے۔ 

علاوہ ازیں  پیپلزپارٹی نے شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد فوری سی ای سی کا اجلاس بھی طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع  کے مطابق پیپلز پارٹی شوکاز نوٹس کا جواب مصالحانہ کی بجائے جارحانہ انداز میں دے گی، پیپلزپارٹی شوکاز نوٹس میں ن لیگ اور پی ڈی ایم کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائے گی۔ شوکاز نوٹس کے الزامات پر جلد پریس کانفرنس بھی کرے گی۔پیپلزپارٹی پی ڈی ایم بحران کا ذمہ دار نون لیگ کو قرار دے گی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقا ن عباسی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کو شوکاز نوٹس نہیں جاری کیا بلکہ حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی) سے ووٹ لینے پر وضاحت طلب کی ہے۔پیپلز پاٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اتحاد کا بھروسہ توڑا ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے  پر گزشتہ روز پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس جاری کردیے۔ سینیٹ میں اپوزیشن کے دو علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوئے۔  مسلم لیگ ن، جے یو آئی، پی کے میپ، نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے سینیٹرز شریک ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی، مشاہد حسین سید، مولانا عبدالغفور حیدری، طاہر بزنجو کے علاوہ مصدق ملک، کامران مرتضی، مولانا عطاالرحمٰن سمیت دیگر نے شرکت کی۔ پی ڈی ایم کے سیکریٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شوکاز نوٹسز جاری کرکے پیپلز پارٹی سے جواب مانگا ہے کہ آپ نے حکومتی ارکان کا ووٹ کیوں حاصل کیا۔  

Advertisement