Advertisement

کوٹ کے پچھلے حصے کو ‘کاٹا’ کیوں جاتا ہے؟ جانیے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کوٹ پہننے کے بعد اس کا نچلا بٹن بند نہیں کرنا چاہئیے؟

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Nov 28th 2022, 9:49 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کوٹ کے پچھلے حصے کو ‘کاٹا’ کیوں جاتا ہے؟ جانیے

کوٹ تو سب ہی نے دیکھا ہواگا لیکن کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اس کو پشت پر ایک لکیر کی شکل میں ‘کاٹا’ کیوں جاتا ہے۔

یہ کوٹ کا ایک اہم ڈیزائن فیچر ہے جسے سوٹ وینٹ کہا جاتا ہے، یہ عمودی لکیر کوٹ کے بیک پر ایک یا 2 جگہ ہوتی ہے۔

سوٹ وینٹ کا استعمال اس عہد میں شروع ہوا تھا جب لوگ گھڑ سواری کے عادی تھے کیونکہ گھوڑے کی زین پر بیٹھنے کے بعد یہ خطرہ نہیں ہوتا تھا کہ کوٹ پھٹ جائے گا۔

اس کے علاوہ اس سے چلتے پھرتے یا بیٹھنے کے دوران کوٹ تنگ ہونے کا احساس نہیں ہوتا جبکہ پینٹ کی جیبوں تک رسائی بھی آسان ہوتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کوٹ پہننے کے بعد اس کا نچلا بٹن بند نہیں کرنا چاہئیے؟

یہ اصول برطانیہ سے باہر پوری دنیا تک پھیل گیا۔

اس اصول کے مطابق کوٹ میں 2 بٹن ہو یا 3، آخری بٹن کو کھلا رکھنا چاہیے اور اوپر کے 2 یا ایک بٹن کو بند کرنا چاہئیے۔

کچھ ماہرین برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم (1901 سے 1910 تک برطانیہ کے بادشاہ رہے) کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

روایات کے مطابق ایڈورڈ ہفتم اتنے موٹے تھے کہ ان کے لیے کوٹ کے سب بٹن بند کرنا ممکن نہیں رہا تو وہ آخری بٹن کو کھلا رکھتے تھے۔

مگر کچھ ماہرین کے مطابق یہ جزوی حقیقت ہوسکتی ہے اور اس کہانی کو گزرے برسوں میں کچھ زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔

برطانیہ کے فیشن ڈیزائنر سر ہارڈی امائز کے مطابق کوٹ کے آخری بٹن کو نہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ اس جیکٹ کو گھڑسواری کے لیے استعمال ہونے والی جیکٹ کی جگہ دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ عہد کے سوٹ 1906 میں ایڈورڈ ہفتم کے دور میں متعارف کروائے گئے تھے اور انہیں لاؤنج سوٹ کا نام دیا گیا۔

لاؤنج سوٹ نے گھڑسواری کے روایتی کوٹ کی جگہ لی تو ان کا آخری بٹن بند نہیں کیا جاتا تھا تاکہ لوگوں کو گھوڑے پر بیٹھنے کے بعد مشکل کا سامنا نہ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈورڈ ہفتم نے بھی موٹاپے کے باعث اس رجحان کو اپنالیا اور سب لوگ بادشاہ کی نقل کرنے لگے۔

Advertisement
 جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں،ایرانی سفیر

 جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں،ایرانی سفیر

  • 18 گھنٹے قبل
ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 17 گھنٹے قبل
پاکستان کی سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت 

پاکستان کی سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت 

  • 17 گھنٹے قبل
استنبول: اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے تین افراد اجاں بحق، دو اہلکار زخمی 

استنبول: اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے تین افراد اجاں بحق، دو اہلکار زخمی 

  • 18 گھنٹے قبل
پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،وزیر اعظم

پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،وزیر اعظم

  • 14 گھنٹے قبل
 ایک کروڑ 40لاکھررضا کار وطن کےدفاع میں جانیں قربان کرنےکے لیےتیارہیں، ایرانی صدر

 ایک کروڑ 40لاکھررضا کار وطن کےدفاع میں جانیں قربان کرنےکے لیےتیارہیں، ایرانی صدر

  • 17 گھنٹے قبل
آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کی دھمکی

آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کی دھمکی

  • 15 گھنٹے قبل
سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد کو ویٹو کردیا

سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد کو ویٹو کردیا

  • 14 گھنٹے قبل
گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ’’ریاست اور سماج مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد

گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ’’ریاست اور سماج مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد

  • 15 گھنٹے قبل
کورکمانڈرزکانفرنس:سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت 

کورکمانڈرزکانفرنس:سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت 

  • 17 گھنٹے قبل
وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، پیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پر حملوں کی شدید مذمت 

وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، پیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پر حملوں کی شدید مذمت 

  • 16 گھنٹے قبل
ٹرمپ کی دھمکی:ایرانی شہری امریکی حملوں سے بجلی گھروں، پلوں کی حفاظت کے لیے نکل آئے

ٹرمپ کی دھمکی:ایرانی شہری امریکی حملوں سے بجلی گھروں، پلوں کی حفاظت کے لیے نکل آئے

  • 14 گھنٹے قبل
Advertisement