جی این این سوشل

دنیا

کوٹ کے پچھلے حصے کو ‘کاٹا’ کیوں جاتا ہے؟ جانیے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کوٹ پہننے کے بعد اس کا نچلا بٹن بند نہیں کرنا چاہئیے؟

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کوٹ کے پچھلے حصے کو ‘کاٹا’ کیوں جاتا ہے؟ جانیے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

کوٹ تو سب ہی نے دیکھا ہواگا لیکن کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اس کو پشت پر ایک لکیر کی شکل میں ‘کاٹا’ کیوں جاتا ہے۔

یہ کوٹ کا ایک اہم ڈیزائن فیچر ہے جسے سوٹ وینٹ کہا جاتا ہے، یہ عمودی لکیر کوٹ کے بیک پر ایک یا 2 جگہ ہوتی ہے۔

سوٹ وینٹ کا استعمال اس عہد میں شروع ہوا تھا جب لوگ گھڑ سواری کے عادی تھے کیونکہ گھوڑے کی زین پر بیٹھنے کے بعد یہ خطرہ نہیں ہوتا تھا کہ کوٹ پھٹ جائے گا۔

اس کے علاوہ اس سے چلتے پھرتے یا بیٹھنے کے دوران کوٹ تنگ ہونے کا احساس نہیں ہوتا جبکہ پینٹ کی جیبوں تک رسائی بھی آسان ہوتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کوٹ پہننے کے بعد اس کا نچلا بٹن بند نہیں کرنا چاہئیے؟

یہ اصول برطانیہ سے باہر پوری دنیا تک پھیل گیا۔

اس اصول کے مطابق کوٹ میں 2 بٹن ہو یا 3، آخری بٹن کو کھلا رکھنا چاہیے اور اوپر کے 2 یا ایک بٹن کو بند کرنا چاہئیے۔

کچھ ماہرین برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم (1901 سے 1910 تک برطانیہ کے بادشاہ رہے) کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

روایات کے مطابق ایڈورڈ ہفتم اتنے موٹے تھے کہ ان کے لیے کوٹ کے سب بٹن بند کرنا ممکن نہیں رہا تو وہ آخری بٹن کو کھلا رکھتے تھے۔

مگر کچھ ماہرین کے مطابق یہ جزوی حقیقت ہوسکتی ہے اور اس کہانی کو گزرے برسوں میں کچھ زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔

برطانیہ کے فیشن ڈیزائنر سر ہارڈی امائز کے مطابق کوٹ کے آخری بٹن کو نہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ اس جیکٹ کو گھڑسواری کے لیے استعمال ہونے والی جیکٹ کی جگہ دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ عہد کے سوٹ 1906 میں ایڈورڈ ہفتم کے دور میں متعارف کروائے گئے تھے اور انہیں لاؤنج سوٹ کا نام دیا گیا۔

لاؤنج سوٹ نے گھڑسواری کے روایتی کوٹ کی جگہ لی تو ان کا آخری بٹن بند نہیں کیا جاتا تھا تاکہ لوگوں کو گھوڑے پر بیٹھنے کے بعد مشکل کا سامنا نہ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈورڈ ہفتم نے بھی موٹاپے کے باعث اس رجحان کو اپنالیا اور سب لوگ بادشاہ کی نقل کرنے لگے۔

جرم

بڑی تباہی سے قبل خفیہ اداروں کی کارروائی

سکیورٹی فورسز نے خود کش حملہ آوروں کے بڑے نیٹ ورک کو گرفتار کرلیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بڑی تباہی سے قبل خفیہ اداروں کی کارروائی

پشاور: انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بروقت کارروائی، سکیورٹی فورسز نے خود کش حملہ آوروں کے بڑے نیٹ ورک کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سکیورٹی ایجنسیوں کی کارروائی کے دوران دہشت گرد نیٹ ورک سے افغان موبائل سمز، منشیات اور کرنسی بھی برآمد کی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 19جنوری کو جمرود تختہ بیگ چیک پوسٹ پر خود کش حملہ آور داخل ہوا تھا، اس حملے میں دہشت گرد کی فائرنگ سے 3 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، فائرنگ کے تبادلے کے دوران حملہ آور نے خود کو بم سے اڑا لیا تھا، حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

بعد ازاں فورسز نے دہشت گردوں کی گولیوں کے خول اور جسم کے اعضا کو فرانزک ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیجا تھا۔

ٹی ٹی پی رکن عمر کو تحصیل جمرود کے رہائشی ستانا جان نے سہولت فراہم کی، 23جنوری کو خودکش حملہ آور سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان فرمان اللہ اور عبدالقیوم کو پکڑا گیا، 27 جنوری کو 3 مشتبہ افراد کی پہلے سے موجودگی کی اطلاع پر ایک آپریشن کیا گیا، آپریشن میں سہولت کار فضل امین، فضل احمد، محمد عامر اور حماد اللہ کو حراست میں لیا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک کو آئی ایم ایف کے ذبح خانوں میں ڈالنے کی شرائط بتائی جائیں: شیخ رشید

ملک کو دہشتگردی سے زیادہ حکومت نے نقصان پہنچایا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک کو آئی ایم ایف کے ذبح خانوں میں ڈالنے کی شرائط بتائی جائیں: شیخ رشید

راولپنڈی: سربراہ پاکستان عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت ملک کو آئی ایم ایف کے ذبح خانوں میں ڈالنے کی شرائط بتائے۔

 ادارے اور اثاثے جان سے زیادہ عزیز ہیں، ملک کو دہشتگردی سے زیادہ حکومت نے نقصان پہنچایا ہے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ معاشی سیاسی دہشت گرد اور قبضہ گروپ لوگوں کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں، انکا مسئلہ غریب کو ریلیف نہیں تکلیف دینا اور اپنے کیس ختم کرانا ہے،90 دن میں الیکشن نہ ہوئے تو سڑکوں پر فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کرنسی رل گئی، ڈالر270کا ہوگیا، پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھیں گی، قوم پیٹ پر پتھر باندھ لے گی، قومی خودمختاری پر سودا نہیں کرے گی، 10فروری تک آئی ایم ایف سے امداد کی شرائط طے ہونگی۔

انہوں نے  مزید کہنا تھا کہ لال حویلی پر قبضے کا خواب دیکھنے والے ذلیل اور رسوا ہونگے اور ہم انکا مقابلہ کریں گے، فتح حق کی ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

مسلم لیگ ن کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنا چاہتی ہوں: مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف جلد آپ کے درمیان ہوں گے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مسلم لیگ ن کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنا چاہتی ہوں: مریم نواز

مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے لاہور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قوم کی تقدیر نہیں بدل دیں گے آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں یہ ملک ایک مرتبہ پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا جیسے اس سے قبل نواز شریف حکومت میں ملک ترقی کر رہا تھا۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ملک کو مشکلات سے نکالا۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف آج بھی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے اور نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے کردار سب سامنے آرہے ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز نے آپ سے انتقام نہیں لیا اور نواز شریف اس بار پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ملک سے نکالنا ایک بڑا سانحہ تھا۔ مجھے اور نواز شریف کو احساس ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے تاہم ترقی کرتا ہوا پاکستان واپس آئے گا۔سازش کرنے والے سارے کردار اپنے انجام کو پہنچے یا نہیں اور وہ  دن بھی دور نہیں جب نواز شریف کی قیادت میں ملک ترقی کرے گا۔

سینئر نائب صدر نے کہا کہ مسلم لیگ ن انتخابات سے نہیں ڈرتی اور بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ 8 ماہ کا حساب بعد میں ہو گا پہلے 4 سال کا حساب دینا ہو گا جبکہ اپنی حکومت کو توڑنے والا اب رو رہا ہے تم اب رونے کی تیاری کر لو اب باقی زندگی بھی رونی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پنجاب میں حکومت کرنے والے ذمہ دار ہمیں قرار دے رہ ہیں۔ آج ان کو مہنگائی کا خیال آرہا ہے جو کہتے تھے مہنگائی کی خبر ٹی وی سے پتہ چلی۔

مریم نواز نے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں پارٹی کے لیے ایک منٹ نہیں بیٹھوں گی۔ انہوں نے ایسے شخص کو نکالا جس کی 9 سالہ کارکردگی نکالیں تو 75 سالہ تاریخ میں کھنڈرات بچتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll