4بجے تک اجلاس نہ ہوا تو پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے، گورنرآرٹیکل 234 کے تحت وفاق کو گورنر راج کا کہہ سکتے ہیں ، راناثناء اللہ
آئین میں لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ نہ لیں تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتے ، رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر وزیراعلیٰ کے لیے ان کے امیدوار حمزہ شہباز شریف ہیں ۔


تفصیلات کے مطابق پنجاب میں ایک اور آئینی بحران سراٹھانے لگا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے گورنر سے جاری ہدایات کے بعد آئینی بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے ،
وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہا ہے کہ گورنرنے آئین کے مطابق اجلاس بلایا ہے ، گورنر پنجاب آج چار بجے نیا نوٹیفیکشن جاری کردیں گے جس کے بعد پرویزالہٰی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے ۔ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر وزیراعلیٰ کے لیے ان کے امیدوار حمزہ شہباز شریف ہیں ۔
اور اگر مزاحمت جاری رہی تو گورنر آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے لیے وفاق کو کہہ سکتے ہیں ، راناثنااللہ کا مزید کہناتھاکہ ا س وقت ان کے پاس 170 ووٹ ہیں جبکہ ان کو 186 ووٹ درکار ہیں ، ان کا مزید کہناتھاکہ میں دو تین روز سے کہہ رہا ہوں کہ ان کے پاس ووٹ پورے نہیں ہیں۔
آئین میں لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ نہ لیں تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتے ، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس کے پاس کنٹینر پہنچا دیے گئے ہیں ۔
دوسری جانب پی ٹی ائی رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب جاری کردہ پہلا نوٹیفیکشن بھی غیر آئینی تھا،
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب تک پرویز الہٰی صرف روزمرہ کے امور نمٹا سکیں گے اور وزیر اعلیٰ کا آفس سیز ہونے کے بعد پرویز الہٰی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکیں گے۔ اگر انہوں نے مزاحمت کی تو آئین کے نفاذ کے لیے گورنر راج کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کو سیل کرنے کی بات نہیں کی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کو سیل کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں بنتا۔ پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کا فیصلہ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کرے گی۔
ن لیگ کے ممکنہ وزیر اعلیٰ کے متعلق انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر حمزہ شہباز ہی بطور وزیر اعلیٰ ہمارے امیدوار ہیں تاہم نئی صورت حال کے مطابق پارلیمانی پارٹی ہی حتمی فیصلہ کرے گی۔ 4 بجے اجلاس منعقد نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ اسپیکر نے جان بوجھ کر گورنر کی ایڈوائس پر عمل نہیں کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور اس کے کارکنان گمراہی کی آخری حد کو پہنچے ہوئے ہیں اور عمران خان کا بنیادی ایجنڈا ہی یہی ہے کہ ملک دیوالیہ کیا جائے۔ عدالت سے عمران خان کو کوئی ریلیف نہیں ملنے والا اور اعتماد کا ووٹ لینے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ نواز شریف سے ہر بات کی جاتی اور رائے لی جاتی ہے۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے "پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل 2026" کی توثیق کر دی
- ایک دن قبل

وزیر اعظم سے آذری صدر الہام علیوف کا ٹیلیفونک رابطہ،دو طرفہ تعلقات اور باہمی امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

ڈھاکا ٹیسٹ: پاکستان کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی، شاہینوں کو بنگال ٹائیگر کے ہاتھوں 104 رنز سے شکست
- ایک دن قبل

پائیدارترقی کیلئےماحول دوست توانائی اور قابل تجدید ذرائع استعمال میں لانا ترجیحات میں شامل ہے،شہبازشریف
- ایک دن قبل

بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- ایک دن قبل

وزیر اعظم کی کسانو ں کو بروقت کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات
- ایک دن قبل

عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر سٹائلسٹ آمنہ انعام پاکستان پہنچ گئیں، ثقافتی وسماجی تقریبات میں ہونگی
- ایک دن قبل

یقین ہے ایران یورینیم کی افزودگی 100 فیصد روک دے گا، معاہدے کیلئے کام کر رہے ہیں،ٹرمپ
- ایک دن قبل

میری اولین ترجیح خواتین کے لیے ایک محفوظ پنجاب بنانا ہے،مریم نواز شریف
- ایک دن قبل
پاکستان کا بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
- 8 گھنٹے قبل

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’سرمات‘ کا کامیابی سے تجربہ کر لیا
- ایک دن قبل

سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 30کروڑڈالرکی قسط موصول
- 7 گھنٹے قبل









