محسن نقوی شفاف الیکشن کرانے نہیں آیا،کسی کومنشی کہنا کون سا جرم ہے: عمران خان
لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ محسن نقوی شفاف الیکشن کرانے نہیں آیا

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری ساری جدوجہد عوام کیلئے ہے، قوم اس وقت کھڑی نہ ہوئی تو آگے اندھیرا ہے۔ فواد چوہدری نے کسی کو منشی کہہ دیا تو کون سا جرم کر دیا۔ اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ادارے کیسے ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی امید ختم ہو رہی ہے سرمایہ باہر منتقل ہو رہا ہے، لوگوں کی پاکستان سے امید چلی گئی، 8 لاکھ لوگ باہر چلے گئے، جس طرح کے فیصلے کروائے جا رہے ہیں، اس طرح ملک کا کوئی مستقبل نہیں، کسانوں اور خاص طور پر تنخواہ دار طبقے سے پوچھیں وہ کیسے گزارہ کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے کسی کو منشی کہہ دیا تو کون سا جرم کردیا، جو قومیں صرف کمزوروں کو جیل میں ڈالتی ہیں، وہ تباہ ہوجاتی ہیں، 26 سالہ سیاست میں کئی چیزیں دہرا چکا ہوں، لوگوں کو اب کئی چیزوں کی سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ کسی وزیراعظم کو حکومت سے نکلنے کے بعد وہ عزت نہیں ملی جو مجھے ملی اور اللہ نے جو مجھے عزت دی ہے خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا ۔ اپنی حکومتوں کی قربانی اس لئے دی کہ ملک کو صاف شفاف انتخابات کی ضرورت ہے لیکن یہ محسن نقوی کو لائے، اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کا الیکشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے، آئین کے مطابق 90 دن میں الیکشن کرانے ہیں، دنیا عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے، انہیں 90 دن کے اندر الیکشن کروانے چاہئیں۔
عمران خان نے کہا کہ کون سی قیامت آ گئی کہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور آٹے کی قیمتیں اتنی بڑھ گئیں، ہماری حکومت جانے سے اب تک ایسا کیا ہوا کہ بجلی اتنی مہنگی ہوئی، قوم کے طاقتور ڈاکوؤں نے اپنے اربوں روپے کے کرپشن کیسز ختم کرائے۔ ایک چھوٹا طبقہ ہے جو اس ملک کا پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتا ہے اور یہ چھوٹا طبقہ جب مشکل پڑتی ہے جہاز پکڑ کر باہر چلے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارے جس کو پتا ہے کہ معیشت نیچے جاتی ہے زیادہ نقصان اس ادارے کا ہے ، ہماری حکومت ہٹا کر ان کی پشت پناہی کی گئی جو 30 سال سے ملک لوٹ رہے تھے، ہمیشہ سمجھتا تھا کہ یہ ادارے ملک کا پیسہ چوری کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوں گے لیکن حیرت ہوئی کہ رجیم چینج کے بعد ادارہ ان کے ساتھ کیسے کھڑا ہو گیا، اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ادارے کیسے ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، قوم کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے، امید ہے کہ آپ صحیح فیصلہ کریں گے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھ پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے چار ممبرز پر دباؤ ڈالا گیا، کس نے ڈالا؟ چار جے آئی ٹی ممبر نے اپنی رپورٹ تبدیل کر لی، جے آئی ٹی میں جو سب سے زیادہ کا م کر رہا تھا اس کو محسن نقوی نے آتے ہی ہٹا دیا، سعید انور شاہ نے عدالت میں چالان دیا، یہ سازش تھی، رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف اس میں ملوث تھے اور اگر ملوث نہیں تھے تو کیوں جے آئی ٹی کو چلنے نہیں دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میری ساری جدوجہد عوام کیلئے ہے اور اب سب کو کھڑے ہونا ہے، میں آزاد انسان ہوں کسی کی غلامی نہیں مانتا، آخری گیند تک لڑوں گا اور جب تک سانس ہے میں ان کا مقابلہ کرتا رہوں گا۔

پیٹرول پمپ ملازم تشدد کیس:عدالت کا ملزم کی رہائی کا حکم
- 2 days ago

آر فور اور یورپی ممالک کا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- 3 days ago

بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا
- 10 hours ago

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 7 hours ago

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل
- 2 days ago

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئے
- 13 hours ago

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ
- 13 hours ago

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک
- 2 days ago

نوجوان برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شعیب ایوب بٹالوی
- 3 days ago

پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات کو مسترد کردیا
- 3 days ago

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور
- 8 hours ago

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- 7 hours ago





