جی این این سوشل

دنیا

اسرائیلی فوج کی جینین مہاجر کیمپ پر اندھا دھند فائرنگ، 9 فلسطینی شہید

 ظالم اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں واقع جینین مہاجر کیمپ پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس سے 60 سالہ بزرگ خاتون سمیت 9 فلسطینی شہید ہوگئے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اسرائیلی فوج کی جینین مہاجر کیمپ پر اندھا دھند فائرنگ، 9 فلسطینی شہید
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

مقبوضہ فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں واقع جینین مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر قیامت ڈھا دی۔

میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے جینین پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 9 فلسطینی شہید ہوگئے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت چھاپے کے دوران فائرنگ سے شہید ہونے والوں میں ایک معمر خاتون بھی شامل ہے، جبکہ 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے کئی فلسطینیوں کی حالت نازک ہے۔

حکام کے مطابق شہید والوں میں سے اب تک صرف دو کی شناخت ہو سکی ہے، جن میں سے ایک 24 سالہ صائب عصام زریقی اور دوسرا 17 سالہ علی تھا۔ جینین کے سرکاری اسپتال کے سربراہ کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی تعداد دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس سے پہلے اتنا بڑا حملہ نہیں کیا گیا۔

ایمبولینس ڈرائیور نے شہداء کے پاس جانے کی کوشش کی تو اسرائیلی فورسز نے ایمبولینس پر براہ راست گولی چلائی اور اسے قریب آنے سے روک دیا۔ اسرائیلی فورسز نے اسپتال کی طرف بھی آنسو گیس فائر کی، جس سے اسپتال میں داخل بچوں کی حالت خراب ہو گئی۔

پاکستان

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں  جسمانی  ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قراردے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیسز سے پولیس کی نا اہلی، سستی ظاہر ہوتی ہے، 9 مئی کے 9 کیسز میں پولیس 425 دن تک سوئی رہی، پولیس نے اتنی دیر بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کیوں نہیں ڈالی۔ پراسیکیوشن بدنیتی سے جان نہیں چھڑوا سکتی، ایک وقت بانی پی ٹی آئی عبوری ضمانت پر بھی تھے، تو ان کو شامل تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے، جسٹس انوارالحق پنوں نے دریافت کیا کہ آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دے دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ 24 جولائی لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے تفصیلی رپورٹ کرلی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملکی سیاست کے مستقبل سے متعلق 31 اگست تک کٹی کٹا نکل آئے گا، شیخ رشید

قوم مہنگائی اور بجلی کے بلوں سے ماری گئی ہے، سربراہ عوامی مسلم لیگ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملکی سیاست کے مستقبل سے متعلق  31 اگست تک کٹی کٹا نکل آئے گا، شیخ رشید

سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملکی سیاست کا مستقبل کیا ہوگا 31 اگست تک کٹی کٹا نکل آئے گا، تب تک لال حویلی خاموش ہے۔

عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 31 اگست تک لال حویلی خاموش ہے، ہم نے ایک نہیں 101 بار کہا 31 اگست تک سیاست میں نہیں ہیں، ہم کہتے ہیں 31 اگست تک کوئی سیاسی بیان نہیں دیں گے۔

شیخ رشید نے کہا کہ قوم مہنگائی اور بجلی کے بلوں سے ماری گئی ہے، لوگ پلوں سے چھلانگیں لگا رہے ہیں، بھائی بھائی کو قتل کر رہا ہے، موجودہ حکومت کے پاس عقل نہیں ہے ان کو فارغ کرو، موجودہ حکومت نفرت کا نشان بن چکی ہے، یہ نالائق، نااہل، کرپٹ اورمسترد شدہ لوگ ہیں، ان کی کسی وزارت میں کوئی کام نہیں ہو رہا۔ شہبازشریف خود خواہش کرتے ہیں ان کو کوئی فون کر کے بلائے، شہبازشریف کہیں سے 10 ڈالر بھی لانے میں کامیاب نہیں ہوئے، پاکستان کو بچانا دو اشخاص جنرل حافظ عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سیاست سے دور ہوتے ہیں یہ جان بوجھ کر ہمیں کھینچ کر لاتے ہیں، یقین ہے 31 اگست سے پہلے فیصلہ ہوجائے گا، عوام کو کامیابی ملے گی، میں نے اپنا فیصلہ بتایا ہے 31 اگست کے بعد سیاست میں حصہ لوں گا، سیاسی انجام 31 اگست سے پہلے پہلے آجائے گا۔ موجودہ حکومت کی کوئی اوقات نہیں، یہ کل پی ٹی آئی پر پابندی لگانا چاہتے تھے، اگر پی ٹی آئی پر پابندی بھی لگا دیں تو کونسی قیامت آجائے گی، ان کی سیاست فیل ہوگئی ہے، انہوں نے جو فیصلہ کیا اس کا فائدہ عمران خان اور اس کی پارٹی کو ہوا۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کہنا چاہتا ہوں 9 مئی واقعات میں گرفتار 680 لوگوں میں سے کافی لوگ بے گناہ ہیں، جب 680 لوگوں کا کیس لگے گا تو جرح ہوگی۔ عدالتوں کے خلاف بیانات حکومت کی شکست کا اعتراف ہے، عدالتیں انہیں رول دیں گی، یہ کہہ رہے ہیں عدلیہ سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، یہ بے وقوف جو کچھ کرتے ہیں بھگتنا فوج کو پڑتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

 نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے، درخواست میں موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

شہر ملک ناجی اللہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست شہری ملک ناجی اللہ کے وکیل اظہر صدیق نے جمع کروائی۔درخواست میں سیکرٹری کابینہ، صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں ریمانڈ کا دورانیہ 14 سے بڑھا کر 40 دن کردیا گیا، نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اب یہ نیا ترمیمی آرڈیننس آگیا ہے جسے پارلیمنٹ میں بھی پیش نہیں کیا گیا، 14 دن سے زائد ریمانڈ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بدنیتی پر مبنی جھوٹا مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا صرف 2 سال کیوں؟۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز کے ملزمان 14، 14 سال سزائیں بھگتتے ہیں، یہ ایک ظالمانہ قانون ہے، ترمیمی آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے، چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا تھا کہ آرڈیننس کے ذریعے ایک شخص کی رائے پوری قوم پر مسلط کردی جاتی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ جمہوریت کے خلاف نہیں؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ کیا یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے کہ صدر آرڈیننس جاری کرتے ہوئے وضاحت بھی دے، یہ آرڈیننس بھی پارلیمنٹ لے جائے بغیر پاس کیا گیا، یہ قانون کی منشا کے خلاف ہے۔

شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی احتساب آرڈیننس 2024 کو آئین کی شقوں کے برخلاف قرار دیا جائے اور قومی احتساب آرڈیننس 2024 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو سیاسی اور انتقامی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید اپیل کی کہ فریقین کو معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ 27 مئی کو قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی منظوری سے 2 آرڈیننس جاری کردیے گئے تھے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 2 اہم ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت نیب کے ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کردی گئی ہے۔نیب ترمیمی آرڈیننس کے مطابق مقدمے میں بدنیتی ثابت ہونے پر نیب افسران کی سزا 5 سال سے کم کرکے 2 سال کردی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll