Advertisement

کورونا کاشکار بھارتی صحافی مددمانگتے مانگتے دنیا سے چل بسا

ممبئی : کورونا کا شکار ایک بھارتی صحافی ٹوئیٹر پر مدد کی اپیل کرتے دنیا سے چل بسا۔ 65 سالہ ونے سری واستو کو بروقت طبی امداد نہ مل سکی۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 22nd 2021, 7:27 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

 تفصیلات کے مطابق  یہ افسوس ناک واقعہ بھارتی شہر لکھنؤ میں پیش آیا جہاں  ہفتے کے رو ز طبی امدا د   مانگتے مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔     اپنی موت سے قبل   بھارتی صحافی  ونے سری واستو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ  ٹوئٹر پر لکھا کہ کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہیں اور ان کا آکسیجن لیول 52 تک گر چکا ہے لیکن ان کو کہیں سے بھی مدد موصول نہیں ہو رہی۔ لکھنو کے رہائشی  سری واستو نے  کہا کہ"  ان کی عمر 65 سال ہے اور ان کو ریڑھ کی ہڈی کا عارضہ بھی لاحق ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا  آکسیجن  لیول کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ ہسپتال، لیب اور ڈاکٹرز تینوں ہی فون نہیں اٹھا رہے۔"

بھارتی صحافی نے اپنی ٹویٹ  کے جواب میں   صارفین کی جانب سے پوچھے سوال کے جواب میں لکھا کہ'  بلرامپور ہسپتال کا گارڈ ان کو اندر داخل نہیں ہونے دے رہا" ۔

ایک  ٹویٹ میں محکمہ صحت کے ایک افسر نے جب ان سے مزید تفصیل مانگی تو انہوں نے آکسیجن ناپنے والے آلے کی تصویر بھیج دی جس میں ان کا آکسیجن لیول گر کر 32 فیصد کی خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے باوجودانہیں  طبی امداد موصول نہیں  ہو سکی تھی ۔بالاخر ہفتے کے روزکرونا کی تباہ کن لہر میں  پھنسے دیگر کئی بھارتی شہریوں کی طرح، ونے سری واستو بھی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اپنی جان گنوا بیٹھے۔

بھارت میں اس وقت کورونا کے  مہلک وار جاری ہیں اور اس  خوفناک لہرمیں تصور کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں  ایک نئی  قسم کے کورونا کیوجی کے  پھیلاؤ سے  بڑھا ہے۔ کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں    بھارت دنیا د کا دوسرا متاثر ترین ملک بن چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیسٹنگ کی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ  مستقبل میں شاید بھارت میں کورونا کے کل کیس برازیل اور امریکہ سے تجاوزکرجائیں ۔

منگل کو مہلک وبا سے بھارت  میں تقریبا 300،000 کیسز اور 2،000 اموات واقع ہوئیں۔

Advertisement