فلک بوس عمارتوں کے وزن کی وجہ سے سالانہ ایک سے دو ملی میٹر کی شرح سے ڈوب رہا ہے،

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق نیویارک جسے ہمہ وقت جاگنے والا شہر کہا جاتا ہے، فلک بوس عمارتوں کے وزن کی وجہ سے سالانہ ایک سے دو ملی میٹر کی شرح سے ڈوب رہا ہے۔
29 اکتوبر 2012 کو ریکارڈ کیے گئے سمندری طوفان سینڈی کے بعد سے سائنسدان یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیر معمولی جغرافیائی خصوصیات کا حامل یہ بڑا شہر مین ہٹن جزیرہ بحر اوقیانوس اور دریائے ہڈسن کے مشرقی کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ یہ شہر طوفانوں، سیلابوں کا شکار رہتا ہے اور موسمیاتی تبدیلیاں بھی اس پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
مئی میں ارتھ فیوچر نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں محققین نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کے کم ہونے پر مجموعی ماس کے اثر کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو مٹی کے کٹاؤ اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ماہرین ارضیات کے حساب کے مطابق نیویارک کی عمارتوں، ٹاورز اور فلک بوس عمارتوں کا وزن 762 ملین ٹن ہے جو زمین پر ایک غیر معمولی دباؤ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ حجم ایفل ٹاور کے حجم سے 75,000 گنا زیادہ ہے
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- 3 hours ago

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- 21 hours ago

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- 32 minutes ago

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا
- a day ago
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- 3 hours ago

گلوکار طارق طافو منوں مٹی تلے جا سوئے
- a day ago
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- 15 minutes ago
لتھوانیا کی وزیر اعظم نے بھی اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
- a day ago

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- a day ago

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- 44 minutes ago

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- a day ago

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- a day ago








.webp&w=3840&q=75)



