ترقیاتی کاموں سےملک میں معیشت کاپہیہ چلےگا اورلوگوں کوروزگار ملےگا،سینیٹراسحاق ڈار


اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشکل فیصلوں کے ذریعے معیشت کی گراوٹ کا عمل رک چکا ہے، معیشت کی بحالی کے بعد اب معیشت کو نمو کی طرف لیکر جانا ہے اور اسے دوبارہ دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بنانا ہے،پاکستان کو ایٹمی طاقت کے بعد اب معاشی قوت بنانا ہے۔
معاشی ترقی اور بجٹ کے تمام اہداف قابل حصول اور عملی ہیں، وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر حقیقی معنوں میں عمل ہوا تو 3.5 فیصد کے نمو کا ہدف آسانی سے حاصل کر لیں گے۔
ہمارا بنیادی ہدف 2017ء کے معاشی اشاریوں کو دوبارہ حاصل کرنا ہے، تنخواہوں میں اضافہ بنیادی تنخواہ پر ایڈہاک ریلیف کی صورت میں دیا جائے گا، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح میں اضافے کا کوئی ارادہ نہیں، تازہ اور پراسیسڈ دودھ پر کوئی سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، دفاعی بجٹ مجموعی قومی پیداوار کا 1.7 فیصد ہے جو ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے۔
ایئر پورٹس کی آئوٹ سورسنگ کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں، کوشش ہے کہ جولائی تک پہلے ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ کے حوالے سے بولی ہو جائے، پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا، بجلی کے شعبہ میں اصلاحات کیلئے کوشاں ہیں، ہر سال ایک ہزار ارب روپے کی سبسڈی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگرسینئر عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ منظور ہونے کے بعد عمومی طور پر ایف بی آر دو کمیٹیاں تشکیل دیتی ہے اس میں ایک تجارتی اور ایک تکنیکی کمیٹی شامل ہوتی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر آج اس کی منظوری لیں گے اور یہ کمیٹیاں بجٹ کی منظوری تک کام کریں گی۔ جو بھی جائز مسائل ہونگے کمیٹیاں اس حوالے سے سفارشات مرتب کر کے حکومت کو دیں گی جوفنانس بل میں شامل ہونگی۔ اسی طرح سینیٹ کی سفارشات بھی شامل کی جائیں گی، ماضی میں بجٹ کے حوالے سے سینیٹ کی سفارشات کو مسترد کیا جاتا تھا مگر اب ہم اس کو سنجیدہ لے رہے ہیں اور حقیقت پسندانہ اور قابل عمل تجاویز کو اس میں شامل کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 8 گھنٹے قبل

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 3 گھنٹے قبل

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 9 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 9 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 3 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 3 گھنٹے قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 3 گھنٹے قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 9 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 7 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 9 گھنٹے قبل

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 7 گھنٹے قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 8 گھنٹے قبل













