Advertisement

اسرائیلی حملے کے بعد جنین میں تباہی کے خوفناک مناظر دیکھے،نمائندہ اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہیلتھ سنٹر بھی تباہ ہو گیا،لینی سٹینستھ

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jul 10th 2023, 8:25 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیلی حملے کے بعد جنین میں تباہی کے خوفناک مناظر دیکھے،نمائندہ اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے عملہ اور ڈونر ممالک کے نمائندوں نے اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے جنین پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا اور اسرائیل کی دو روزہ فوجی کارروائی سے ہونے والے تباہی کے خوفناک مناظر اور نقصانات کا مشاہدہ کیا۔اس فوجی کارروائی میں چار بچوں سمیت کم از کم 12 افراد شہید اور 140 زخمی ہوئے جبکہ تقریباً 900 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

لینی سٹینستھ نے اس موقع پر کہا کہ انہوں نے جنین میں خوفناک تباہی دیکھی، کچھ مکانات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے، کاریں دیواروں سے ٹکرا گئیں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ، حتیٰ کہ ان کے ادارے کی طرف سے قائم کیا گیا ہیلتھ سنٹر بھی تباہ ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کیا جنین مہاجر کیمپ کے مکین اسرائیلی حملے کے بعد بے حد خوفزدہ ہیں۔ جنین پناہ گزین کیمپ میں تقریباً 24 ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں۔ یہاں قائم یواین آر ڈبلیو اے کا ہیلتھ سنٹر اس قدر تباہ ہو گیا ہے کہ اسے مزید استعمال نہیں کیا جا سکتا اور اس کےقائم کردہ چار سکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملے کے بعد علاقے کے سکولوں میں طلبا کی حاضری بہت کم تھی، کچھ والدین نے رپورٹ کیا کہ ان کے بچے سکول جانے سے بہت خوفزدہ تھے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کی ڈپٹی کمشنر جنرل لینی سٹینستھ نے کہا کہ ان کے دورہ کا مقصد جنین مہاجر کیمپ پر اسرائیلی حملے کے متاثرین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا تھا اور انہیں یہ یقین دلانا تھاکہ اس مشکل وقت میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔وفد میں ایجنسی کے مغربی کنارے کے فیلڈ آفس کے ڈائریکٹر ایڈم بولوکوس اور اقوام متحدہ کے رہائشی اور انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر لن ہیسٹنگز اور بین الاقوامی اور ڈونر کمیونٹی کے کئی سینئر نمائندے بھی شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جنین کے مہاجر کیمپ میں پانی اور بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال نہیں کی جاسکی۔اسرائیل کی طرف سے حملے کے دوران بھاری مشینری کے استعمال کی وجہ سے تقریباً آٹھ کلومیٹر پانی کی پائپنگ اور تین کلومیٹر سیوریج لائنیں تباہ ہو گئیں جس سے سڑکوں کے بڑے حصے اکھڑ گئے ہیں تاہم علاقے میں صفائی کا کام جاری ہے۔ فوجی آپریشن کی وجہ سے کم از کم 3500 افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

یواین آر ڈبلیو اے کی عہدیدار نے کہا کہ کہ کیمپ میں تعلیم، صحت، صفائی ستھرائی اور خاندانوں کو نقد امداد فراہم کرنے جیسے شعبوں میں کیمپ میں اپنی خدمات دوبارہ شروع کر کے رہائشیوں کے لیے معمول کے احساس کو بحال کرنے میں مدد فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے عطیہ دہندگان اور شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ کیمپ میں انسانی امداد کے لیے فوری طور پر فنڈز فراہم کریں۔انہوں نے فلسطین باشندوں کی حالت زار کا تذکرہ کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا 

Advertisement