وفا کے باب میں میرا حسینؓ زندہ ہے ،10محرم الحرام یوم الشہدا حضرت حسینؓ کی شہادت کا دن
ایک ظالم اور فاسق کی بیعت نہ کی شہادت کو قبول کرلیا


10 محرم الحرام یوم جمعہ حضرت امام حسینؓ کے بیٹے حضرت علیؓ اکبر نے اذان دی امام حسینؓ نے امامت فرمائی۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد حضرت امام حسین ؑ نے اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کوتلواروں اور نیزوں سے مسلح ہونے کا حکم دیا جب فوج کومکمل تربیت دے دی تو آپ گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی صفوں کے قریب ہو گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا:
اے لوگو! میری بات غور سے سنو، عجلت نہ کرنا کیونکہ جہاں تک مجھ پر واجب ہےمیں تمہیں اچھی طرح سمجھا نہ لوں اور اپنے آنے کا سبب تمہیں بتا نہ لوں اگر تم حق پسندی اور ایمانداری سے کام لو گے تو تمہاری سعادت مندی ہے اگر تم میرا عذر قبول نہیں کرنا چاہتے تو مجھ حملہ آور ہو جاؤ بلاشبہ اللہ میرا مددگار ہےاور میں اسی سے مدد کا طلبگار ہوں ۔
تم لوگ میرے شجرہ نسب پر غور کرو کہ میں کون ہوں کیا مجھے شہید کرنا اور میری آبرو ریزیکرنا تمہیں زیب دیتا ہے ؟ جائز ہے کیا؟ میں تمہارے نبیؐ کا نواسہ نہیں ہوں؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول ؐاللہ نے میرے اور میرے بھائی حسن کے بارے میں فرمایا ہے یہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔
کیا تم میں سے کوئی شخص ہے جو تمہیں اس خون ریزی سے روک دے؟ لیکن یزید کی فوج پر نواسہ رسول کے خطاب کا کوئی اثر نہیں ہوا حضرت حر اور ان کے بھائی حضرت مصعب معافی مانگ کر آپ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔
امام عالی کی صف سے سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن عمیر نکلے اور داد شجاعت پاتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیا امام عالی نے ایک بار پھر یزیدی لشکر سے خطاب کیا لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا،اما حسین نے اپنی تین باتیں یزیدی لشکر کے سامنے رکھی کہ یا تو مجھے یزید تک پہنچا دو تاکہ اس کے پاس جا کر میں بعییت کا فیصلہ کر لوں دوسری کہا کہ ہمیں مدینہ واپس جانے دو تیسری ہمیں پانی پلادو ظالمون نے تینوں باتیں مسترد کر دیں۔
بعد ازاں امام عالی خود میدان جنگ میں اترے تقریباً 40 اصحاب اُسی وقت شہید ہو گئے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ دوران جنگ نماز ظہر کا وقت ہو گیا تونماز کا تہیہ فرمایا تیر چونکہ مسلسل آ رہے تھے اس لئے زہیر ابن قیس اور سعید بن عبداللہ امام حسینؓ کے سامنے کھڑے ہو کر تیروں کو سینے پر لینے لگے یہاں تک کہ امام نے نماز تمام فرمالی۔امام حسینؓ کے موعظہ کا اثر جناب حرؓ پر پڑا اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر گھوڑے سے اُتر کر آپؑ کی رکاب کو بوسہ دیا امام نے حُرؓ کو معافی دے کر جنت کی بشارت دی،اس کے بعد دیگر شہدا کے سر کاٹے گئے،خیموں میں کہرام مچ گیا دشمنوں نے خیموں کو آگ لگا دی اور سامان لوٹنا شروع کر دیا ۔ پھر اس قافلہ کو کوفہ لے جانے کے لئے مقتل کی طرف سے گذارا گیا تو حشر کا سماں بن گیا قافلہ آگے بڑھا آل رسولؐ کی لاشیں بے گورو کفن زمین کربلا پرپڑی رہیں چند دنوں بعد بنی اسد نے انہیں سپرد خاک کر دیا گیارہ محرم کو رسول پاکؐ کی نواسیوں کا یہ قافلہ دربار کوفہ گیا پھر ایک ہفتہ انہیں کوفہ میں رکھا گیا۔
10محرم الحرم،نواسہ رسول حضرت امام حسین کی عظیم شہادت کا دن#GNN #GNN_Updates #NewsUpdates #Breakingnews pic.twitter.com/NZRwQo45xu
— GNN (@gnnhdofficial) July 29, 2023

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 3 days ago

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 3 days ago

کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
- 13 minutes ago

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- 4 days ago

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- a day ago

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 3 days ago

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 3 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 16 hours ago

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور
- 4 days ago

ہانگ کانگ سپر سکسز: پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی
- 7 minutes ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 16 hours ago

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 4 days ago






