16 ماہ میں ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے بھرپور کوششیں کیں،شہباز شریف
حکومت اور اتحادی جماعتوں نے سیاست کی بجائے ریاست بچانے کو ترجیح دی،وزیر اعظم کا وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس سے خطاب


وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری حکومت تاریخ کی مختصر ترین مخلوط حکومت تھی جس نے 16 ماہ میں ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے بھرپور کوششیں کیں، حکومت اور اتحادی جماعتوں نے سیاست کی بجائے ریاست بچانے کو ترجیح دی.
وفاقی کابینہ کے الوداعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 11 اپریل 2022ء کو قومی اسمبلی نے ہم پر اعتماد کیا جس کے نتیجہ میں ایک مخلوط حکومت معرض وجود میں آئی، اس نے 16 ماہ میں اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ اس وقت جو معاشی صورتحال تھی اس کو بہتر بنایا جائے اور عوام کی خدمت کیلئے پوری دیانتداری سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی خدمت کی جائے.
شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا، جب ہم متاثرہ علاقوں میں جاتے تھے تو ہر طرف دریائے سندھ کے سیلاب سے ہونے والی تباہی نظر آتی تھی، اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وفاق اور چاروں صوبوں نے مل کر دن رات کام کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین نے 75، 80 ارب روپے انتہائی شفاف طریقہ سے متاثرین میں تقسیم کئے جس کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ اس کے علاوہ این ڈی ایم اے نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،
وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کے علاوہ بھی ہماری حکومت کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ہم اقتدار میں آئے تو مہنگائی کا طوفان تھا جو ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اس کی بے شمار وجوہات ہیں، جب ہم نے حکومت سنبھالی تو مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا جس کا سبب سابق حکومت کی چار سالہ بدترین غفلت تھی، سابق حکومت نہ صرف داخلی بلکہ خارجی محاذ پر بھی پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا موجب بنی اور پاکستان کے تشخص کو مجروح کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج کابینہ کا آخری اجلاس ہے، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی کابینہ کی مثال نہیں ملتی جس میں چاروں صوبوں کی قیادت موجود ہے جس سے بعض فیصلے کرنے میں ہمیں بہت آسانی ہوئی اس قیادت نے اپنے صوبوں کے مفادات کا بھی بھرپور تحفظ کیا، ہماری کابینہ چاروں صوبوں کے ایک خوبصورت گلدستے کی مانند تھی، تمام مشکلات، چیلنجز اور اپنے اپنے منشور اور سوچ کے ساتھ ہم نے 16 ماہ تک یکجا ہو کر پاکستان کو بچانے کیلئے کام کیا اور ریاست کو بچایا، تاریخ اس کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کے ختم ہوتے ہی نگران حکومت وجود میں آئے گی اور آئندہ عام انتخابات ہوں گے جن کے نتیجہ میں جو بھی حکومت آئے گی ہم سب مل کر اس ملک کی کشتی کو پار لگانے کیلئے شبانہ روز محنت کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے حوالے سے بے پناہ مشکلات کا سامنا تھا، ہم نے بہت محنت کی اور ہمت نہیں ہاری، اﷲ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہوتی تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار، ان کی ٹیم اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی اس حوالے سے خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک کے تعاون اور وفاقی کابینہ اور اداروں کے کردار اور کاوشوں کے حوالے سے عوام کو علم ہونا چاہئے، چین نے پچھلے چار مہینوں میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور تقریباً پانچ ارب ڈالر کے قرضے فراہم کئے، چین کے سابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کے ساتھ بات کی اور انہیں باور کرایا کہ چین پاکستان کو کسی مشکل میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔
میں نےکل شہداء کے والدین اور غازیوں سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی، پاکستان کی مسلح افواج کے شہداء اور غازیوں نے جرأت و بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں اور بدترین دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، پورے ملک کو دہشت گردی کا سامنا تھا، ہسپتال، مساجد اور سکول تک دہشت گردوں سے محفوظ نہیں تھے، جی ایچ کیو پر حملہ ہوا، اساتذہ اور طلباء تک کو نہیں بخشا گیا، کوئی جگہ دہشت گردی سے محفوظ نہیں تھی، پاکستان کی مسلح افواج، مذہبی سیاسی جماعتوں اور عوام نے مل کر دہشت گردی کی عفریت کا مقابلہ کیا اور ضرب عضب اور ردالفساد آپریشنز کئے، ہزاروں لوگوں کی شہادت کے نتیجہ میں ملک میں امن قائم ہوا،
وزیراعظم نے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک قومی اتحاد کے بغیر آگے نہیں چل سکتا، صوبوں اور وفاق کے درمیان جو بھی فاصلہ ہو اسے کم کرنا ہو گا، 16 ماہ میں سیاسی قیادت نے سنجیدگی دکھائی ہے، حکومتی اتحاد میں شامل ہر جماعت کا اپنا اپنا منشور اور اپنی اپنی سیاسی سوچ ہے لیکن ایک مقصد کیلئے ہم اکٹھے ہوئے ہیں، نواز شریف سمیت سیاسی قائدین نے کمال کی سیاسی پختگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور تدبر، برداشت اور صبر سے کام لیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ یاد رکھے گی کہ کس طرح مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر مسائل پر قابو پایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے 75 سالوں میں کئی کوششیں ہوئیں اس دوران باربار فوجی حکومتیں آتی رہیں اور 33، 34 سال مارشل لاء میں گزر گئے اور بلاواسطہ بھی سیاسی حکومتیں کنٹرول ہوتی رہیں۔ پاکستان اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ یہ بات کہتے شرم آتی ہے کہ بنگلہ دیش بھی ہم سے آگے نکل گیا ہے اور وہ ملک جنہوں نے ہمارا پانچ سالہ منصوبہ کاپی کیا وہ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں، مشرق میں ہمارا ہمسایہ 60، 70، 80 اور 90ء کی دہائی میں بھی کئی میدانوں میں ہم سے پیچھے تھا لیکن آج وہ کئی شعبوں میں ہم سے آگے نکل چکا ہے، کوئی تو وجہ ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے،
کہیں تو ہم نے غلطیاں کی ہوں گی کہ چھوٹے چھوٹے ملک بھی آگے نکل گئے اور ان میں ایسے بھی ملک ہیں جن میں ایک کلو کپاس بھی پیدا نہیں ہوتی لیکن وہ کپاس درآمد کرکے بھی ایکسپورٹرز بن گئے، یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، اس صورتحال پر بطور پاکستانی سب سے پہلے میں اپنے آپ کو اور پھر کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرائوں گا، آج اگر ہم نے ملک کو کھڑا کرنا ہے اور ترقی و خوشحالی کے سفر پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں سوچنا ہو گا،

مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان
- 13 گھنٹے قبل

پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف
- 19 گھنٹے قبل

ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ
- 19 گھنٹے قبل

معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے
- 19 گھنٹے قبل

نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا
- 17 گھنٹے قبل

آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
- 19 گھنٹے قبل

ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد
- 16 گھنٹے قبل

ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا
- 16 گھنٹے قبل

معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی
- 19 گھنٹے قبل

لاہور میں ویب کون 2026 کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور
- 14 گھنٹے قبل

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
- 16 گھنٹے قبل

ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 15 گھنٹے قبل










