اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کافی مشکل تھا ، ہم آئی ایم ایف پروگرام سے نکلیں گے نہیں تاہم اس کے طریقہ کار کو تبدیل کریں گے، ہمیں انہیں ثابت کرنا ہے کہ ہم جو اقدامات کریں گے اس سے ریونیو بڑھالیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس ٹیرف میں اضافے کی گنجائش نہیں ہے، ٹیرف پر آئی ایم ایف ٹیم سے بات چیت جاری ہے، گردشی قرضہ بڑھتا جا رہا ہے، وزیراعظم ٹیرف بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں ۔ ان کاکہنا تھا کہ ٹیکسز کے حوالے سے بھی ایسے ہی اقدامات کریں گے اور اسے بڑھائیں گے تاہم ہم اچانک سے بڑا اضافہ نہیں کرسکتے، تھوڑا تھوڑا اضافہ کرکے ہم آگے جاسکتے ہیں اور آئی ایم ایف کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے اور حکومت کو مشکل حالات کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ آئی ایم ایف نے سخت شرائط رکھیں جن کی سیاسی قیمت بھی ہے۔ اس سے قبل جب میرے دور میں آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے تو دنیا کو دہشت گردی کا سامنا تھا اور آئی ایم ایف سے دوستانہ ماحول نہیں ملا جس میں شرائط نہیں تھیں لیکن اب حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی تو شرائط لگا دی گئیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری ایکسپورٹس میں زیرو ایف ٹی آئی ہے اور اپنے دوست ملک سعودی عرب سے پیسے بھی لیے لیکن معاشی طور پر استحکام کی طرف جا رہے تھے کہ کورونا آ گیا، انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے گروتھ 92 فیصد سے 57 فیصد پر چلی گئی لیکن اب ہم نے معاشی استحکام سے نکل کر گروتھ کی طرف جانا ہے۔ 70کی دہائی میں ہم معاشی منصوبہ بندی کیا کرتے تھے۔
شوکت ترین نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے بھی حکومت نے اقدامات کیے۔ اس وقت ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے تاہم ہمیں کورونا کی وجہ سے خطرے کا سامنا ہے لیکن ہم نے معیشت کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس بحران کے دوران حکومت نے 1200 کھرب روپے کا پیکج دیا جس سے معیشت میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ مارچ میں ریونیو گزشتہ سال سے 46 فیصد بڑھا اور 20 اپریل تک 92 فیصد نمو تھی تاہم اپریل کے آخر میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ کم ہوکر 57 فیصد پر آگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کورونا سے خطرہ ہے ورنہ ہماری معاشی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ توجہ قیمتوں کے استحکام پر ہے۔ ہم سماجی تحفظ کے شعبے سے متعلق اقدامات میں توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ میں نہ آنے کی وجہ ہراساں کیا جانا بھی ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 62 فیصد آبادی ہماری دیہاتوں میں رہتی ہے اور ان کا پیشہ زراعت ہے تاہم اس شعبے میں گزشتہ 10 سالوں میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور ہمیں اس پر پیسے خرچ کرنے پڑیں گے اور یہ ہماری ترجیح میں شامل ہےان کا کہنا تھا کہ ہماری صنعتیں معیار کے مطابق نہیں، برآمدات کی زیادہ تر صنعتیں خاندانی کاروبار ہیں جس کا دو نسلوں بعد بٹوارا ہوجاتا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ا س سلسلےمیں جی ڈی پی گروتھ کو کم از کم 5 فیصد پر رکھنا ہوگا ، زراعت پر پیسے خرچ کرنے ہونگے، پانی سمیت دیگر ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا جبکہ صنعتوں میں کوئی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہے،صنعتوں کی استعداد بڑھا کر غیر ملکی سرمایہ کاری لائی جاسکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومتی ملکیتی اداروں کے انتظامی امور نجی شعبے کو دیئے جائیں گے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،وزیر اعظم
- 7 گھنٹے قبل

جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں،ایرانی سفیر
- 11 گھنٹے قبل

پاکستان کی سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت
- 10 گھنٹے قبل

ٹرمپ کی دھمکی:ایرانی شہری امریکی حملوں سے بجلی گھروں، پلوں کی حفاظت کے لیے نکل آئے
- 7 گھنٹے قبل

استنبول: اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے تین افراد اجاں بحق، دو اہلکار زخمی
- 11 گھنٹے قبل

آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کی دھمکی
- 8 گھنٹے قبل

وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، پیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پر حملوں کی شدید مذمت
- 9 گھنٹے قبل

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 10 گھنٹے قبل

گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ’’ریاست اور سماج مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد
- 9 گھنٹے قبل

سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد کو ویٹو کردیا
- 7 گھنٹے قبل

کورکمانڈرزکانفرنس:سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت
- 10 گھنٹے قبل

ایک کروڑ 40لاکھررضا کار وطن کےدفاع میں جانیں قربان کرنےکے لیےتیارہیں، ایرانی صدر
- 10 گھنٹے قبل














