جی این این سوشل

کھیل

رونی او سلیوان نے لوکا بریسل کو ہرا کر لگاتار چوتھا شنگھائی ماسٹرز ٹائٹل اپنے نام کیا

میں ٹرافی اپنے دوست کو دوں گا جو یہاں ایک کلب کھول رہا ہے، معروف کھلاڑی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

رونی او سلیوان نے لوکا بریسل کو ہرا کر لگاتار چوتھا شنگھائی ماسٹرز ٹائٹل اپنے نام کیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

رونی او سلیوان نے کہا کہ وہ لوکا بریسل کے خلاف 11-9 سے مسلسل چوتھی بار شنگھائی ماسٹرز ٹائٹل جیتنے کے بعد کبھی بھی ٹرافی اپنے پاس نہیں رکھتے۔

انگلش کھلاڑی بیلجیئم کے عالمی چیمپئن کے خلاف مسلسل تین فریم لینے سے پہلے ایک مرحلے میں 4-3 سے پیچھے تھے۔

143 اور 120 کے بریک نے او سلیوان کو فتح کے دہانے پر پہنچا دیا اور وہ اپنے مخالف کی طرف سے دیر سے ریلی کے باوجود برقرار رہا۔

"میں ٹرافی اپنے دوست کو دوں گا جو یہاں ایک کلب کھول رہا ہے۔ یہ چین میں رہے گا،" انہوں نے کہا۔"میں ہمیشہ انہیں دیتا ہوں۔ میرے ساتھی پال کے پاس ایک ہے۔

رونی او سلیوان نے کہا کہ میں ٹرافیوں کے بارے میں پریشان نہیں ہوں۔ میں نے ان میں سے کچھ کو فروخت کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ جب میں 70 یا 80 سال کا ہوں تب تک کوئی یادگار باقی رہ جائے۔ میں موت کی تیاری کر رہا ہوں، سنوکر کا کوئی سامان نہیں چاہیے، واسکٹ، سنوکر سٹک، یہ سب کچھ جانے والا ہے۔"

یہ سات بار کے عالمی چیمپئن کی چینی شہر میں لگاتار 18ویں میچ میں فتح تھی۔

یہ 2019 کے بعد مین لینڈ چین میں کورونا وائرس وبائی مرض سے پہلے منعقد ہونے والا پہلا ورلڈ سنوکر ٹور ایونٹ تھا۔

رونی نے وہیں سے شروع کیا جہاں سے انہوں نے چھوڑا تھا، 2009، 2017، 2018 اور 2019 میں فتوحات کے بعد مجموعی طور پر پانچویں بار ٹائٹل اپنے نام کیا۔

"یہ ان ٹورنامنٹس میں سے ایک تھا۔ میں برابر سے نیچے تھا، لیکن جب مجھے کرنا پڑا تو میں نے ٹھیک کھیلا۔

پاکستان

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینےکا فیصلہ

یونین کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کے 19 سے 21 جولائی 2024 کو گوجرانوالہ میں ہونے والے اجلاس میں کیاگیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینےکا فیصلہ

پی ایف یوجے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینے کا اصولی فیصلہ کیاہے ۔

یہ فیصلہ  یونین کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کے 19 سے 21 جولائی 2024 کو گوجرانوالہ میں ہونے والے اجلاس میں کیاگیا ۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے آئین میں درکار ضروری ترامیم کی جائیں گی ۔

فیڈرل یونین ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے ایک فارم جاری کرے گی ۔ یہ ڈیٹا تمام ملحقہ یونینز اکٹھا کریں گی ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیاگیاہے کہ ہتک عزت قانون میں پائی جانے والی خامیوں کو دورکرنے کے لئے ایک قانونی مسودہ تیارکیاجائے گا ۔ یہ مسودہ ایک تین رکنی کمیٹی تیار کرے گی اوریہ قانونی مسودہ حکومت کو پیش کیاجائے گا ۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔ 

پیکا ایکٹ کے ملزمان کا تحت ٹرائل کے معاملے پر بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی روف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے نئی قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔

عدالتوں کی تشکیل کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔دوسری جانب وزارت قانون نے وضاحت کی ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حکم کی روشنی میں پیکا ایکٹ ملزمان کے ٹرائل کیلئے عدالتیں تشکیل دی گئیں ہیں، جسٹس بابر ستار نے 6 جون 2024 کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نےقیمتیں مقرر کرنے کا حکومتی اختیارختم کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق قیمتیں بڑھانے کےنتیجے میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے،قیمتیں کم ہونے کی صورت میں حکومت کو مطلوبہ عوامی ستائش نہیں ملتی۔جس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مرحلہ وار قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کی تیاری کرلی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر پیٹرولیم نے اہم اجلاس کل طلب کرلیا۔چئیرمین اوگرا کو قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کے اثرات اور لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا حتمی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قمتیں مقرر کرنے کااختیار دینے کی مخالفت کی تھی۔ ان کاکہناہے کہ کھلا اختیار ملنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب ناجائز منافع خوری کا خدشہ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll