جی این این سوشل

تجارت

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے

برینٹ خام تیل 29 سینٹس اضافے کے ساتھ 94.86 ڈالر فی بیرل پر طے ہوا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ماسکو: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث قیمتیں ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 29 سینٹ اضافے کے ساتھ 94.86 ڈالر فی بیرل پر طے پائی۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 53 سینٹس بڑھ کر 91.00 ڈالر فی بیرل پر طے ہوا۔ جبکہ عرب لائٹ خام تیل کی قیمت 97.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے جون میں تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان کے بعد سے دنیا بھر میں تیل کی تین چوتھائی قیمتوں کے لیے استعمال ہونے والے برینٹ فیوچرز کی قیمت میں تقریباً 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب تیل کی عالمی منڈی کے دو سب سے بڑے کھلاڑیوں سعودی عرب اور روس نے اپنی پیداوار میں کمی کو سال کے آخر تک بڑھا دیا ہے جبکہ چینی ریفائنریز نے مضبوط برآمدی مارجن کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپیک کے رکن لیبیا کی جانب سے ایک مہلک طوفان کی وجہ سے اپنے مشرقی تیل برآمد کرنے والے چار ٹرمینل بند کرنے کی خبروں نے بھی تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔

پاکستان

غریب عوام پر کم سے کم ٹیکس عائد کیا گیا ہے ، وزیر اعظم

شہبازشریف نے کہاکہ ایف بی آر ملکی معیشت کا اہم ترین ستون ہے اور حکومت انسانی وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کیلئے تمام وسائل مہیا کرے گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

غریب عوام پر کم سے کم ٹیکس عائد کیا  گیا ہے ، وزیر اعظم


وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں غریب اورمتوسط طبقے پرکم سے کم ٹیکس عائد کیا ہے ۔

انہوں نے ٹیکس اصلاحات،ڈیجٹیلائزیشن اور محصولات میں اضافے کے حوالے سے متعلق اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ اشرافیہ کو ٹیکس دینا ہوگا ، وزیراعظم نے کہا ہماری اولین ترجیح ٹیکس کی شرح کو کم کرنا اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے ، انہوں نے کہاکہ ہم ٹیکس چوروں اور ٹیکس ناہندگان اور ان کی معاونت کرنے والے عناصر کا ہر صورت سد ِباب کریں گے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ٹیکس دینے کے اہل افراد کو جلد سے جلد ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں موجودہ پالیسیوں کے مکمل نفاذ سے ملکی آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ممکن ہے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ ملکی معیشت کی Valueچین کی ڈیجیٹلائزیشن اور آٹو میشن سے ملکی معیشت کی کو دستاویزی شکل دی جاسکے گی۔

شہبازشریف نے کہاکہ ایف بی آر ملکی معیشت کا اہم ترین ستون ہے اور حکومت انسانی وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کیلئے تمام وسائل مہیا کرے گی ۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وفاقی وزیر خزانہ

معیشت کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی ٹیم کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد تک لے کر جائیں گے، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے لیے پہنچے تو میڈیا نمائندگان نے تنخواہوں پر ٹیکس کیخلاف احتجاج کیا۔ میڈیا نمائندگان نے نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر سب سے زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا، حکومت متوسط طبقے کیلئے ریلیف کے اقدامات کرے۔

محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کا نفاذ ہوگا کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پٹرولیم لیوی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ عالمی تیل کی کمپنیوں کو دیکھ کر کریں گے، عالمی تیل کی کمپنیوں کے معاملات کو مانیٹر کر رہے ہیں، نان فائلرز کی اختراع سمجھ نہیں آتی، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، نان فائلرز کے کاروبار اور لین دین پر ٹیکس کی شرح بڑھا رہے ہیں نان فائلرز کے لیے بزنس ٹیکس ٹرانزیکشن میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا مقصد انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے، 10 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو نا قابل برداشت ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے جس کے لیے مختلف اداروں کو بہتر کرنا ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے کم ازکم چھوٹ برقرار ہے، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35 فیصد ہے۔31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، ٹیکس کا اطلاق جولائی سے ہو گا، یہ ٹیکس 2022 میں لگ جانا چاہیے تھا، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مقصد بوجھ بانٹنا ہے، ٹیکس سلیب میں ردوبدل ممکن ہے، سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

ان  کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ورک فورس موبلائز ہوئی ہے، مفتاح اسماعیل نے 2022 میں فکسڈ ٹیکس کی بات کی تھی، آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کو سہولیات فراہم کریں گے، نوجوانوں کو نوکریاں دینی ہیں اور روزگار ان کی ضرورت ہے۔ پی آئی ایس پی کے افراد کو کس بجٹ میں سہولت ملی، ماضی میں بھی کتنے وزرائے خزانہ نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کو سہولیات دیں گے۔ آئی ٹی سیکٹر کے لیے بہت بڑی رقم مختص کی ہے، مختص رقم سے آئی ٹی سیکٹر میں انفرااسٹرکچر بہتر کیا جا سکے گا، ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام تمباکو، سیمنٹ، کھاد اور دیگر سیکٹرز میں جانا تھا، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ میں شاید مسئلہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ پر 6 لاکھ روپے انکم ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی ہے، نان سیلریڈ کلاس میں پروفیشنل کمیونٹی ہے، اس کےلئے ٹیکس 45 فیصد کیا ہے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔ اپریل میں درخواست کی کہ تاجر خود کو رجسٹرڈ کروائیں، یہ رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کا طریقہ تھا، 31ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ کوئی چارہ نہیں کہ ان سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، جولائی سے ریٹیلرز اور ہول سیلرز پر ٹیکس لگے گا، اس وقت 90 کھرب روپے نقد زیر گردش ہیں، نقد کی ٹرانزیکشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک کے ساتھ بینک نئی سکیمز لائیں گے، زرعی شعبے کی فنانسنگ بڑھائی جائے گی، فری لانسر اور ایس ایم ایز کے لئے فنانسنگ پر کام کررہے ہیں، ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت ایگزم بینک منتقل کر رہے ہیں، پی ایس ڈی پی میں جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس میں بہت بڑی لیکیج ہے جس کو پلگ کرنا ہے، سیلز ٹیکس سے متعلق ترجیح ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائز کریں، ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور وہ کتنا بل دیتے ہیں لائف سٹائل کا سارا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے، اس ڈیٹا کے جائزے کے لیے ٹیم بنائیں گے جو چیک کرے، اس کے بعد فیلڈ ٹیم کو اس پر عمل درآمد کا کہیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت جس جس سیکٹر سے نکل جائے اتنا ہی بہتر ہے، حکومت کو پرائیوٹ سیکٹر کو آگے لانے کے لیے ماحول دینا ہو گا، ٹیکسز لیکیج کو کم کرنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لایا گیا جس کا مقصد تمباکو اور سیمنٹ سمیت ہر شعبے میں ٹیکس چوری روکنا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

چینی وزیر اعظم کی نیوزی لینڈ کی گورنر سنیتھا کیرو سے ملاقات

 لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ چین اور نیوزی لینڈ کے ترقیاتی تصورات، ثقافتی اقدار اور بین الاقوامی تجاویز ملتے جلتے ہیں، اور سالوں سے ایک دوسرے کی ترقی سے فائدہ اٹھایا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چینی وزیر اعظم کی نیوزی لینڈ کی گورنر سنیتھا کیرو سے ملاقات

 چینی  وزیر اعظم لی چھیانگ  نے ویلنگٹن گورنر ہاؤس میں نیوزی لینڈ کی گورنر سنتھیا کیرو سے ملاقات کی۔

 لی چھیانگ نے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے گورنر کیرو کو نیک خواہشات پیش کیں۔لی چھیانگ نے کہا کہ  نیوزی لینڈ کا میرا دورہ چین اور  نیوزی لینڈ کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی 10 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے اور یہ دوستی اور تعاون کا سفر ہے۔ چین  نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک اور دنیا کے عوام کے فائدے کے لئے چین  نیوزی لینڈ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا اپ گریڈ ورژن تیار کیا جاسکے۔

 لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ چین اور نیوزی لینڈ کے ترقیاتی تصورات، ثقافتی اقدار اور بین الاقوامی تجاویز ملتے جلتے ہیں، اور سالوں سے ایک دوسرے کی ترقی سے فائدہ اٹھایا ہے، اور دونوں فریقوں کو ہمیشہ مشترکہ ترقی میں شراکت دار ہونا چاہئے ۔ 

چین نیوزی لینڈ کے ساتھ تعاون کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، تعلیمی، ثقافتی اور عوامی سطح پر دیگر تبادلوں کو مضبوط بنانے، عوامی سطح پر تبادلوں کو وسعت دینے اور دوستانہ تبادلوں کی مزید کہانیاں لکھنے میں  کام کرنے کے لئے تیار ہے۔

سنتھیا  کیرو نے کہا کہ نیوزی لینڈ چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے، لوگوں کے درمیان اور ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے، دونوں عوام کے درمیان دوستی کو مزید بڑھانے اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل کو مشترکہ طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll