Advertisement
پاکستان

معیشت کودرپیش دیرینہ چیلنجز کے حل کیلئے میثاق جمہوریت ضروری ہے ،انوارلحق کا کڑ

 انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد وہ اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Oct 11th 2023, 2:20 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
معیشت کودرپیش دیرینہ چیلنجز کے حل کیلئے میثاق جمہوریت ضروری ہے ،انوارلحق کا کڑ

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ معیشت کو درپیش دیرینہ چیلنجز کے حل کیلئے میثاق معیشت اور جمہوری تسلسل ضروری ہے، معاشی استحکام کیلئے برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے، ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات حوصلہ افزاء رہی ہے، رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو بے دخل نہیں کیا جا رہا ہے، سول اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرکے بہتر اسلوب حکمرانی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ نیویارک سے واپسی پر جہاز کی ری فیولنگ کیلئے فرانس میں رکنا پڑا، سوشل میڈیا پر بے بنیاد خبریں پھیلائی جاتی ہیں، تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں تہمت کا عنصر نمایاں ہو رہا ہے جس سے ہمارے مذہب نے صدیوں پہلے روکا تھا اس کا اب ہم شکار ہو رہے ہیں یہ بڑی بیماری ہے جہاں پر متاثرہ شخص کو وضاحت کا موقع بھی نہیں ملتا آزادی اظہار رائے کے نام پر غلط خبریں پھیلانا افسوسناک ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم اسرائیل کو غاصب ریاست اور فلسطین کو مظلوم سمجھتے ہیں، یہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے، گذشتہ کچھ دہائیوں سے عالمی سطح پر دو ریاستوں کے تصور کا حل تجویز کیا گیا ہے تاہم بدقسمتی سے اسرائیل مذکورہ حل سے انکاری ہے جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور اسلامی دنیا میں فلسطین اور کشمیر کی وجہ سے بنیاد پرستی کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد وہ اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے، اس کیلئے ضروری نہیں کہ میں کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار یا کسی پارلیمان کا رکن ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بطور نگراں وزیراعظم ان کا پہلا اجلاس توانائی کے حوالے سے ہوا، اس وقت جون اور جولائی کے 14 روپے فی یونٹ اضافی ڈالنے پڑے، اس پر ہمارے اوپر تنقید بھی ہوئی لیکن یہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کا حصہ تھا، ہم نے ان سے بات بھی کی، مجھ سے منسوب ایسی باتیں بھی کی گئیں جو میں نے نہیں کیں، اس حوالے سے میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، جب انرجی کے شعبہ کو باریک بینی سے دیکھا تو اس کے مسائل سے آگاہی ہوئی، بہت مہنگی بجلی پیدا کی جا رہی ہے، بجلی چوری کا سامنا ہے، لائن لاسز سمیت دیگر مسائل سے آگاہی ہوئی۔

Advertisement