غزہ کی جنگ مشکل اور لمبی ہو سکتی ہے، یوو گیلینٹ


اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلینٹ کا کہنا ہے کہ زمینی فوج غزہ کی سرحد پر جمع ہونے کے لیے تیار ہے تاکہ فلسطینیوں کی ' انکلیو ' کو اندر سے دیکھ سکیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر دفاع کی یہ بات جمعرات کے روز کہی جس کا اشارہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے زمینی حملے کے نزدیک آ جانے کی طرف تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ' آپ نے غزہ کو فاصلے سے دیکھا ہے اب آپ جلد غزہ کو اندر سے بھی دیکھ لیں گے۔' تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کی جنگ ایک مشکل اور لمبی جنگ ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے اس خطاب کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایک ایسی ویڈیو سامنے ائی ہے جس میں وہ اپنے فوجیوں کو سرحد کے نزدیک کسی جگہ پر اپنی فتح کا یقین دلا رہے ہیں
امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ملکوں کی حکومتیں اسرائیل کی غزہ پر جاری فضائی اور ممکنہ زمینی حملوں کے لیے کھل کر حمایت کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیل کی طرف سے ہسپتالوں پر بمباری کی بھی مذمت نہیں کی ہے۔
اسرائیل کو 75 برسوں میں سب سے زیادہ سنگین حملوں کا سامنا ہے۔ اس بارے میں اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس چیف نے اعتراف بھی کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے راکٹ حملوں کا پیشگی پتہ چلانے اور انہیں روکنے میں ناکام رہا ہے۔
واضح رہے اسرائیل کا میزائل حملوں کو روکنے کا نظام بھی حماس کے ان راکٹ حملوں کو روکنے میں ناکام رہا جس سے اسرائیلی کی ٹیکنالوجیکل اور فوجی برتری کے تصور کو بہت دھچکا لگا ہے۔
تب سے اسرائیلی 23 لاکھ نفوس پر مشتمل غزہ کو اپنی بمباری کی زد میں لیے ہوئے ہے۔ اب تک کئی ہسپتالوں کو بھی بمباری میں براہ راست نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ جبکہ اسرائیل فورسز نے غزہ کا باہر سے مسلسل محاصرہ کرکے پانی ، ادویات اور خوارک سمیت ہر چیز کی غزہ کو فراہمی روک دی ہے۔
غزہ میں ہر طرف ملبے کا ڈھیر بنے گھروں اور ہسپتالوں ، سکولوں اور مسجدوں کے نیچے بھی بہت فلسطینی دب چکے ہیں، جن کے بارے میں نہیں اندازہ کہ وہ اب تک کیسے زندہ رہے ہوں گے۔ مجموعی طور پر غزہ میں اب تک تقریباً چار ہزار فلسطینی شہید کر دیے گئے ہیں۔ جن میں ایک ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے غزہ کے محاصرے کے خاتمے اور اسرائیل کے عام فلسطینیوں پر جاری حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاکہ غزہ کے جنگ زدہ لاکھوں شہریوں کو امدادی سامان کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔

شہباز شریف سے حنیف عباسی کی ملاقات، ریلویز کی مجموعی کارکردگی، اصلاحات تفصیلی تبادلہ خیال
- 15 گھنٹے قبل

ایران نے پاکستان کےمجوزہ ’’اسلام آباداکارڈ‘‘ پر اپنے ردعمل سے آگاہ کردیا
- 9 گھنٹے قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کی اماراتی بندرگاہ خوروفکان پر حملے شدید مذمت،فریقین سے تحمل کی اپیل
- 14 گھنٹے قبل

زرمبادلہ ذخائر کی بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا،شہباز شریف
- 12 گھنٹے قبل

امریکی و اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف شہید،ایران کی تصدیق
- 15 گھنٹے قبل

پیٹرول اور ڈیزل کی وافر مقدار موجود ہے، ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کےخلاف سخت ایکشن ہو گا،وزیر خزانہ
- 10 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا جاپان اور پرتگال کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- 12 گھنٹے قبل

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- 15 گھنٹے قبل

فاسٹ باؤلر نسیم شاہ غیر معینہ مدت کیلئے پی ایس ایل سے باہر،مگر کیوں ؟
- 15 گھنٹے قبل

لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری، حالیہ فضائی حملوں میں مزید 11شہری شہید
- 14 گھنٹے قبل

بنوں: نادرا آفس پر دہشت گردوں کے حملےمیں 2پولیس اہلکار شہید
- 10 گھنٹے قبل

توانائی بچت اورکفایت اشعاری اقدمات کے تحت ملک بھر میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
- 10 گھنٹے قبل









.webp&w=3840&q=75)

