Advertisement

اسرائیل کے غزہ میں کچھ اقدام الٹے پڑ سکتے ہیں، باراک اوبامہ

خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں تک کے لیے سخت اور اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں، سابق امریکی صدر

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Oct 24th 2023, 7:16 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل  کے غزہ میں کچھ اقدام الٹے پڑ سکتے ہیں، باراک اوبامہ

سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات مثلاً غزہ میں خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں تک کے لیے سخت اور اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں۔

سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اسرائیلی فوجی تدبیر جو جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو نظر انداز کر دے آخر کار الٹی پڑ سکتی ہے۔

اوباما نے کہا اسرائیلی حکومت کی طرف سے غزہ میں یرغمال شہری آبادی کے لیے خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلے سے نہ صرف بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ یہ نسلوں کے لیے فلسطینی رویوں کو مزید سخت اور اسرائیل کے لیے عالمی حمایت کو ختم کر سکتا ہے،

اسرائیل کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل سکتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے طویل المدتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اوباما نے حماس کے حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ ایسی جنگوں میں شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔

اپنی صدارت کے دوران اوباما غزہ میں فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے ساتھ تنازعات کے آغاز میں اکثر اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے تھے لیکن فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد انہوں نے فوراً اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ کیا۔

45 کلومیٹر طویل (25 میل) زمین کی پٹی غزہ جس میں 2.3 ملین افراد رہائش پذیر ہیں، وہاں 2007 سے سیاسی طور پر ایران کے حمایت یافتہ اسلامی گروپ حماس کی حکومت ہے لیکن اسے اسرائیل کی جانب سے ناکہ بندی کا سامنا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں امن معاہدے کی کوشش کی تھی لیکن بالآخر معاملات طے کروانے میں ناکام رہی۔

2021 کے اوائل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بائیڈن نے طویل تعطل کا شکار بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ کہتے ہوئے کہ دونوں طرف کے رہنما اپنے مؤقف پر بہت سختی سے کاربند تھے اور ماحول مناسب نہیں تھا۔

جب اوباما صدر تھے تو ان کے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات ترشی کا شکار تھے بشمول جب اوباما انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی۔

 

Advertisement