خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں تک کے لیے سخت اور اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں، سابق امریکی صدر


سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات مثلاً غزہ میں خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں تک کے لیے سخت اور اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں۔
سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اسرائیلی فوجی تدبیر جو جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو نظر انداز کر دے آخر کار الٹی پڑ سکتی ہے۔
اوباما نے کہا اسرائیلی حکومت کی طرف سے غزہ میں یرغمال شہری آبادی کے لیے خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلے سے نہ صرف بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ یہ نسلوں کے لیے فلسطینی رویوں کو مزید سخت اور اسرائیل کے لیے عالمی حمایت کو ختم کر سکتا ہے،
اسرائیل کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل سکتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے طویل المدتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اوباما نے حماس کے حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ ایسی جنگوں میں شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔
اپنی صدارت کے دوران اوباما غزہ میں فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے ساتھ تنازعات کے آغاز میں اکثر اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے تھے لیکن فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد انہوں نے فوراً اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ کیا۔
45 کلومیٹر طویل (25 میل) زمین کی پٹی غزہ جس میں 2.3 ملین افراد رہائش پذیر ہیں، وہاں 2007 سے سیاسی طور پر ایران کے حمایت یافتہ اسلامی گروپ حماس کی حکومت ہے لیکن اسے اسرائیل کی جانب سے ناکہ بندی کا سامنا ہے۔
اوباما انتظامیہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں امن معاہدے کی کوشش کی تھی لیکن بالآخر معاملات طے کروانے میں ناکام رہی۔
2021 کے اوائل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بائیڈن نے طویل تعطل کا شکار بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ کہتے ہوئے کہ دونوں طرف کے رہنما اپنے مؤقف پر بہت سختی سے کاربند تھے اور ماحول مناسب نہیں تھا۔
جب اوباما صدر تھے تو ان کے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات ترشی کا شکار تھے بشمول جب اوباما انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی۔

پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی ،ٹرمپ
- 12 hours ago

مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے امریکا کو ایرانی تجاویز کا جواب آج مل جانا چاہیے،مارکو روبیو
- 9 hours ago

وزیراعظم نے بڑھتے ہوئے ایچ آئی وی کیسزکا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دیدی
- 6 hours ago

ڈھاکا ٹیسٹ : پہلے دن کا کھیل ختم ،بنگلادیش نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 301 رنزبنا لیے
- 8 hours ago

روس نے ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں مجوزہ امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا
- 10 hours ago

امریکی صدر کو بڑا جھٹکا،عدالت نے ٹرمپ کا 10 فیصد عالمی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
- 12 hours ago

کاروباری ہفتے کے آخری روز سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟َ
- 11 hours ago

امریکی حکام کی تحویل سے 11 پاکستانی، 20 ایرانی کارکنوں کی وطن واپسی میں تعاون کی درخواست کی،اسحاق ڈار
- 11 hours ago

وزیر اعظم کا قطری ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال
- 12 hours ago

28 فروری کے مقابلے میں ہمارے میزائلوں اور لانچرز کے ذخیرے میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے، عباس عراقچی
- 6 hours ago

جھل مگسی:مسافر کوچ الٹنے سے 8افراد جاں بحق، 30زخمی
- 9 hours ago

آسٹریلیا نےکالعدم تنظیم بی ایل اے پر پابند ی عائد کر دی
- 7 hours ago







