مارخور کے شکار کے لیے سب سے زیادہ مہنگا پرمٹ ایک لاکھ 86 ہزار ڈالر میں نیلام ہوا، محکمہ جنگلی حیات


محکمہ جنگلی حیات، گلگت بلتستان نے گزشتہ دنوں خطرے سے دوچار جگلی حیات کو تحفظ دینے میں مقامی کمیونٹی کو شامل کرنے کیلئے 104 جانوروں کے ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ نیلام کیے ہیں جس میں استور مارخور کے شکار کے لیے سب سے زیادہ مہنگا پرمٹ ایک لاکھ 86 ہزار ڈالر میں نیلام ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ جنگلی حیات کے ایک اہلکار کہا کہ نایاب مارخور اور دوسرے جانوروں کو مارنے کے لیے بھاری لائسنس فیس سے حاصل شدہ رقم ان دور دراز واقع علاقوں کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔
ٹرافی ہنٹنگ کا یہ پروگرام سب سے پہلے 1990 میں سابق ریاست کشمیر کے علاقہ گلگت بلتستن کی وادی نگر میں متعارف کرایا گیا تھا، جس نے بین الاقوامی شکاریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو اس علاقے میں محدود تعداد میں جنگلی جانوروں کو نشانہ بنانے کے لیے ہر سال لاکھوں ڈالر ادا کر تے ہیں۔ اس پروگرام کو بعد میں مختلف شمالی علاقوں تک بڑھا دیا گیا۔
ٹرافی کے شکار کو دنیا بھر میں ایک متنازعہ مشق کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس میں کھیل کے لیے نایاب جانوروں کا شکار کرنا اور ان کے کھال وغیرہ کو ٹرافی کے طور پر محفوظ کرنا شامل ہے۔ تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ شمالی پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام غیر قانونی شکار کو روکنے میں مدد دیتا ہے اور مقامی بستیوں میں رہنے والے باشندوں کو بااختیار بناتا ہے۔
مارخور عام طور پر 8,000 سے 11,000 فٹ کی بلندی پر پائے جاتے ہیں لیکن سردیوں کے مہینوں میں یہ 5,000 سے 6,000 فٹ تک آ جاتے ہیں جب شکار کا موسم شروع ہوتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام سے حاصل ہونے والی رقم کا 80 فیصد مقامی کمیونٹیز کو جاتا ہے، جو اسے تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ٹرافی کے شکار کا سیزن یکم نومبر سے شروع اور 25 اپریل کو ختم ہوتا ہے۔ 2023-2024 کے سیزن کے لیے جی بی حکومت نے چار استور مارخور، 12 نیلی بھیڑوں اور 88 آئی بیکس کے شکار کے اجازت نامے نیلام کیے تھے۔
حکام کے مطابق مارخور کے شکار کا دوسرا سب سے بڑا پرمٹ ایک لاکھ 81 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا، اس کے بعد ایک اور پرمٹ ایک لاکھ 77 ہزار میں فروخت ہوا۔ نیلی بھیڑوں کی بنیادی قیمت 9 ہزار ڈالر تھی تاہم ایک نیلی بھیڑ کے پرمٹ کی قیمت 26 ہزار ڈالر اور 35 ہزار ڈالر کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستانی شکاریوں کے لیے نیلی بھیڑوں کے پرمٹ کی سب سے زیادہ قیمت 18 لاکھ روپے تھی۔ آئی بکس کے شکار کی سب سے زیادہ قیمت 11 لاکھ روپے تھی جو مقامی کمیونٹیز اس رقم کو صحت اور ترقی کے شعبے کے علاقہ طلباء کو اسکالرشپ اور کمیونٹی کے ضرورت مند ممبران کو ایمرجنسی کی صورت میں یا چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے بھی فراہم کرتے ہیں۔

اسحاق ڈار کا جاپان اور پرتگال کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- a day ago

زرمبادلہ ذخائر کی بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا،شہباز شریف
- a day ago

پیٹرول اور ڈیزل کی وافر مقدار موجود ہے، ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کےخلاف سخت ایکشن ہو گا،وزیر خزانہ
- 20 hours ago

بنوں: نادرا آفس پر دہشت گردوں کے حملےمیں 2پولیس اہلکار شہید
- 20 hours ago

قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے،وزیر اعظم
- 11 minutes ago

توانائی بچت اورکفایت اشعاری اقدمات کے تحت ملک بھر میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
- 20 hours ago

صحت نہ صرف ایک انفرادی ترجیح ہے بلکہ معاشی ترقی، استحکام اورمعیاری زندگی کی بنیاد بھی ہے،شہباز شریف
- 6 minutes ago

وزیر اعظم شہباز شریف کی اماراتی بندرگاہ خوروفکان پر حملے شدید مذمت،فریقین سے تحمل کی اپیل
- a day ago

ایران نے پاکستان کےمجوزہ ’’اسلام آباداکارڈ‘‘ پر اپنے ردعمل سے آگاہ کردیا
- 20 hours ago

امریکی و اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف شہید،ایران کی تصدیق
- a day ago

فاسٹ باؤلر نسیم شاہ غیر معینہ مدت کیلئے پی ایس ایل سے باہر،مگر کیوں ؟
- a day ago

لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری، حالیہ فضائی حملوں میں مزید 11شہری شہید
- a day ago










