Advertisement
پاکستان

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش پر پیغام

پوری دنیا میں آج تک جدید جامعات میں بھی اقبال کے فلسفے اور کلام پر تحقیق اور تدریس کا عمل جاری و ساری ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Nov 9th 2023, 2:41 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش پر پیغام

اسلام آباد: نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اقبال نے امن، سیاسی برداشت اور بھائی چارے سے مزین پاکستان کا خواب دیکھا تھا، آج کے دن ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اقبال کےاس تصور پاکستان کے حصول کیلئے دن رات محنت کریں گےجس کے تحت اقبال کے پاکستان میں ادارے مضبوط، عوام باشعور اور معیشت اس قدر مستحکم ہو کہ پاکستان معاشی طور پر قرضوں کی زنجیروں سے آزاد ہو جائے، مجھے اپنی قوم، بالخصوص نوجوانوں پر پورا اعتماد ہے کہ وہ اقبال کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔

شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش پر اپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ آج مجھ سمیت پوری قوم شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 146 واں یومِ پیدائش بڑی عقیدت و احترام سے منا رہی ہے، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے نوجوانانِ برصغیر کو اپنے آبائواجداد کی لازوال قربانیوں، ا ن کی دنیا کے ہر شعبے میں گراں قدر خدمات، ان کی عظمت ، ترقی پسندیت اور ندرتِ فکر کی کھوئی ہوئی میراث سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے امت کے نوجوانوں کو حوصلے، خود اعتمادی، بہادری اور درویشی کے باوصف شاہین سے تعبیر دی، اقبال نے پوری دنیا بالخصوص بر صغیر کے نوجوانوں کو مسلمانوں کے تابناک ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے علم و تحقیق، جدت اور انفرادی و معاشرتی ارتقاء کی منازل طے کرنے کی تلقین کی اور یوں دنیا کو تسخیر کرکے ستاروں پر کمند ڈالنے کا نیا جوش و ولولہ پیدا کیا۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ  اقبال کے فلسفہِ خودی نے انسانیت کو دنیاوی قوتوں اور مادی چمک دمک سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی ذات کے ادراک سے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک منفرد نسخہء کیمیا تجویز کیا، یہ اقبال کی تعلیمات کی ابدیت ہی ہے کہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں آج تک جدید جامعات میں بھی اقبال کے فلسفے اور کلام پر تحقیق اور تدریس کا عمل جاری و ساری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے جہاں دنیائے فلسفہ میں اپنا لوہا منوایا وہیں ان کی دینی خدمات بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں، اقبال نے اسلام اور ہمارے اسلاف کی جدت پسندی کو مزید اجاگر کیا اور اسلامی تعلیمات کی دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا پرچار کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق اور جستجو کے تسلسل اور ترویج پر زور دیا۔

 

Advertisement