جی این این سوشل

تجارت

ایل پی جی کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر کمی

ایل پی جی کی درآمدات پر 203 ملین ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 6 فیصد کم ہے، ادارہ شماریات

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایل پی جی کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر  کمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ایل پی جی کی درآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے چار ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان بیورو برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ایل پی جی کی درآمدات پر 203 ملین ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 6 فیصد کم ہے۔ ایل پی جی کی درآمدات پر پچھلے سال 216 ملین ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا تھا۔

اکتوبر 2023 میں ایل پی جی کی درآمدات پر 63 ملین ڈالر خرچ ہوئے جو گذشتہ سال اکتوبر کے مقابلہ میں ایک فیصد کم ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں ایل پی جی کی درآمدات پر 64 ملین ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا تھا۔

ستمبر کے مقابلہ میں اکتوبر میں ایل پی جی کی درآمدات ماہانہ بنیادوں پر 48 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ستمبر میں ایل پی جی کی درآمدات پر 42 ملین ڈالر خرچ ہوئے جو اکتوبر میں بڑھ کر 63 ملین ڈالر ہو گئے۔

پاکستان

یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا

28 مئی 1998 کو پاکستان نے انڈیا کے مقابلے ایٹمی دھماکے کئے یہ یقینا ایک قاابل فخر دن ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا

28مئی یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔

28 مئی 1998 کو پاکستان نے انڈیا کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کئے یہ یقینا ایک قاابل فخر دن ہے۔ یہ ایک قومی دن ہے۔ نواز شریف اس وقت وزیر اعظم تھے اور ان سے ان کے حصے کا کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا، لیکن کیا دوسروں سے ان کے حصے کا کریڈٹ چھینا جا سکتا ہے، بھٹو سے، ضیا الحق سے، ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کے رفقا سے؟ کئی ہیرو تو وہ ہوں گے جو گم نام ہوں گے اور کیا عجب کہ حقیقی ہیرو وہی ہوں۔

عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔کراچی میں ابتدائی تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انہوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔

1974 میں پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر رابطوں کے بعد 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔

اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاء الحق نے تبدیل کرکے ان کے نام پر " ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز" رکھ دیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے ایک کتابچے میں خود لکھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے سربراہ رہے۔

ڈاکٹر اے کیو خان کے انسٹی ٹیوٹ نے ان کی سربراہی میں نا صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ محسن پاکستان نے ہالینڈ میں رہائش کے دوران ہنی خان نامی خاتون سے شادی کی تھی جن سے ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں جو شادی شدہ ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 13 طلائی تمغوں سے نوازا گیا جب کہ آپ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالقدیر نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی تحریر کیے۔ 1996 میں جامعہ کراچی نے عبدالقدیر کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند عطا کی جبکہ 14 اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا اور پھر 1989 میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔
پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet نامی ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہے

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسپین کا فلسطین کی حقیقت کو تسلیم کرنا بین الاقوامی منظر نامے پر مثبت پیش رفت ہے، وزیراعظم

سپین نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سےظلم و جبر اور غاصبانہ عزائم کو اس فیصلے سے مسترد کر دیا، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسپین کا فلسطین کی حقیقت کو تسلیم کرنا بین الاقوامی منظر نامے پر  مثبت پیش رفت ہے، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے فلسطین کو باضابطہ آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپین جیسے ملک کا فلسطین کی حقیقت کو تسلیم کرنا بین الاقوامی منظر نامے پر ایک مثبت پیش رفت اور خوش آئند امر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پیڈرو سانچیز اور سپین کے لوگوں نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے جاری تاریخی ظلم و جبر اور غاصبانہ عزائم کو اس فیصلے سے مسترد کر دیا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رفح میں اسرائیل کی بلا اشتعال بمباری کے نتیجے میں مزید 45 فلسطینی شہید ہوئے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ فلسطین میں جاری اسرائیلی نسل کشی کو ختم ہونا چاہئے، پاکستان اپنے نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کی ایک آزاد فلسطین اور بیت ا

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت کا سولر سسٹم کےحوالے سے عوام کو بڑا ریلیف

تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی اور ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین رجسٹریشن کرا سکیں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا سولر سسٹم کےحوالے سے عوام کو بڑا ریلیف

پنجاب میں مستحق افراد کے لئے حکومت پنجاب نے مفت سولر سسٹم فراہم کرنے کے حوالے سے طریقہ کار طے کر لیا۔

ذرائع کے مطابق ماہانہ 100 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے 50 ہزار گھرانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کیا جائےگا۔ تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی اور ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین رجسٹریشن کرا سکیں گے۔

سولرسسٹم اور انسٹالیشن کا 100فیصد خرچہ پنجاب حکومت برداشت کریگی، منصوبے پر 10 ارب روپے لاگت آئے گی، بجلی چوری، میٹر ٹیمپرننگ ریکارڈ یا کسی بھی دوسری اسکیم سے مستفید گھرانے اہل نہیں ہوں گے۔

دستاویزات کے مطابق اہل صارفین بل ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر 8800 پر بھیج کر اپنی رجسٹریشن کروا سکیں گے، سو یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا ڈیٹا نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کو مہیا کیا جائے گا۔

این ٹی سی تصدیق کے بعد اہل صارفین کا ڈیٹا پی آئی ٹی بی کو بھی فراہم کرے گا، پی آئی ٹی بی سے جاری حتمی لسٹیں ضلعی انتظامیہ کو بھیجی جائیں گی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کےلیے محکمہ توانائی کو پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی منظوری بھی مل گئی، منصوبے کو نئے مالی سال کا حصہ بنا کر یکم جولائی سے عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے عالمی بینک کے اشتراک سے صرف 7 ہزار روپے کے عوض پورا سولر سسٹم عوام کو فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بھر میں دو لاکھ گھرانوں کو صرف 7 ہزار روپے میں پورا سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا، کراچی کے 50 ہزار گھرانے بھی شامل ہیں۔ عالمی بینک کے اشتراک سے مجوزہ فراہم کردہ سولر سسٹم سے ایک پنکھا اور 3 ایل ای ڈی بلب جلائے جاسکیں گے۔

ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی کے مطابق ہر صوبے کے ہر ضلع میں 6 ہزار 656 سولر سسٹم دیئے جائیں گے، منصوبے کا آغاز رواں سال اکتوبر سے متوقع ہے۔ سسٹم میں سولر پینلز، چارج کنٹرولر اور بیٹری بھی شامل ہے، جیسے ہی خریداری ہوجائے گی تو اکتوبر میں تقسیم شروع ہوجائے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll