جی این این سوشل

پاکستان

ایم ایل ون منصوبہ حکومت کی اوّلین ترجیح ہے،نگران وزیر ریلوے

شاہد اشرف تارڑ نے پھر کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ مسلسل حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور ان ترجیحات کو حقیقت کا روپ دینے کی سیاسی خواہش کا اظہار کیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایم ایل ون منصوبہ  حکومت کی اوّلین ترجیح ہے،نگران وزیر ریلوے
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان اور چین نے ایم ایل ون منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس عزم کا اظہار مواصلات، بحری امور اور ریلوے کے وزیر شاہد اشرف تارڑ اور پاکستان میں چین کے سفیر جینگ زیڈونگ  کے درمیان آج اسلام آباد میں ایک ملاقات میں کیا گیا۔

شاہد اشرف تارڑ نے پھر کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ مسلسل حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور ان ترجیحات کو حقیقت کا روپ دینے کی سیاسی خواہش کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے اس منصوبے کیلئے چینی مہارت اور شرکت کی تعریف کی۔

چینی سفیر نے کہا کہ منصوبے کی بنیاد باہمی مفاہمت پر مبنی ہے اور تعاون اور ترقی میں اس کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کام کرنے کیلئے پُرعزم ہیں اور ہماری مشترکہ کوششوں کا مقصد ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنا ہے۔

 

پاکستان

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

سینیٹر فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہو گئے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہونے پر کمیٹی ارکان نے شکریہ ادا کیا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ بحری مسائل کی نشاندہی ہی نہیں، بلکہ مسائل کا حل میری ترجیح ہوگیا، سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے، جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم بھی بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وفاقی وزیر خزانہ

معیشت کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی ٹیم کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد تک لے کر جائیں گے، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے لیے پہنچے تو میڈیا نمائندگان نے تنخواہوں پر ٹیکس کیخلاف احتجاج کیا۔ میڈیا نمائندگان نے نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر سب سے زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا، حکومت متوسط طبقے کیلئے ریلیف کے اقدامات کرے۔

محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کا نفاذ ہوگا کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پٹرولیم لیوی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ عالمی تیل کی کمپنیوں کو دیکھ کر کریں گے، عالمی تیل کی کمپنیوں کے معاملات کو مانیٹر کر رہے ہیں، نان فائلرز کی اختراع سمجھ نہیں آتی، نان فائلرز کی اختراع شاید ہی کسی اور ملک میں ہو گی، نان فائلرز کے کاروبار اور لین دین پر ٹیکس کی شرح بڑھا رہے ہیں نان فائلرز کے لیے بزنس ٹیکس ٹرانزیکشن میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا مقصد انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے، 10 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو نا قابل برداشت ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے کر جانا ہے جس کے لیے مختلف اداروں کو بہتر کرنا ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے کم ازکم چھوٹ برقرار ہے، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35 فیصد ہے۔31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، ٹیکس کا اطلاق جولائی سے ہو گا، یہ ٹیکس 2022 میں لگ جانا چاہیے تھا، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مقصد بوجھ بانٹنا ہے، ٹیکس سلیب میں ردوبدل ممکن ہے، سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

ان  کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ورک فورس موبلائز ہوئی ہے، مفتاح اسماعیل نے 2022 میں فکسڈ ٹیکس کی بات کی تھی، آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کو سہولیات فراہم کریں گے، نوجوانوں کو نوکریاں دینی ہیں اور روزگار ان کی ضرورت ہے۔ پی آئی ایس پی کے افراد کو کس بجٹ میں سہولت ملی، ماضی میں بھی کتنے وزرائے خزانہ نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کو سہولیات دیں گے۔ آئی ٹی سیکٹر کے لیے بہت بڑی رقم مختص کی ہے، مختص رقم سے آئی ٹی سیکٹر میں انفرااسٹرکچر بہتر کیا جا سکے گا، ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام تمباکو، سیمنٹ، کھاد اور دیگر سیکٹرز میں جانا تھا، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ میں شاید مسئلہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ پر 6 لاکھ روپے انکم ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی ہے، نان سیلریڈ کلاس میں پروفیشنل کمیونٹی ہے، اس کےلئے ٹیکس 45 فیصد کیا ہے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔ اپریل میں درخواست کی کہ تاجر خود کو رجسٹرڈ کروائیں، یہ رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کا طریقہ تھا، 31ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ کوئی چارہ نہیں کہ ان سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، جولائی سے ریٹیلرز اور ہول سیلرز پر ٹیکس لگے گا، اس وقت 90 کھرب روپے نقد زیر گردش ہیں، نقد کی ٹرانزیکشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بینک کے ساتھ بینک نئی سکیمز لائیں گے، زرعی شعبے کی فنانسنگ بڑھائی جائے گی، فری لانسر اور ایس ایم ایز کے لئے فنانسنگ پر کام کررہے ہیں، ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت ایگزم بینک منتقل کر رہے ہیں، پی ایس ڈی پی میں جاری منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس میں بہت بڑی لیکیج ہے جس کو پلگ کرنا ہے، سیلز ٹیکس سے متعلق ترجیح ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائز کریں، ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کس کے پاس کتنی گاڑیاں اور وہ کتنا بل دیتے ہیں لائف سٹائل کا سارا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے، اس ڈیٹا کے جائزے کے لیے ٹیم بنائیں گے جو چیک کرے، اس کے بعد فیلڈ ٹیم کو اس پر عمل درآمد کا کہیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت جس جس سیکٹر سے نکل جائے اتنا ہی بہتر ہے، حکومت کو پرائیوٹ سیکٹر کو آگے لانے کے لیے ماحول دینا ہو گا، ٹیکسز لیکیج کو کم کرنے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لایا گیا جس کا مقصد تمباکو اور سیمنٹ سمیت ہر شعبے میں ٹیکس چوری روکنا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

اسٹاک مارکیٹ : 100 انڈیکس ملک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

 بینچ مارک انڈیکس 3,410.73 پوائنٹس یا 4.69 فیصد اضافے کے ساتھ 76,208.16 پر بند ہوا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسٹاک مارکیٹ  : 100  انڈیکس ملک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پوسٹ بجٹ سیشن میں واضح طور پر مثبت رہا  کیونکہ بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 76,000 کی سطح عبور کر کے جمعرات کو ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

 بینچ مارک انڈیکس 3,410.73 پوائنٹس یا 4.69 فیصد اضافے کے ساتھ 76,208.16 پر بند ہوا۔ عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) نے ایک نوٹ میں کہا کہ یہ ایک سیشن میں سب سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ ہے۔


اس سے قبل KSE-100 انڈیکس 2735.07 پوائنٹس، یا 3.75 فیصد بڑھ کر 12:17pm پر 75,579.23 پر کھڑا ہوا، PSX ڈیٹا پورٹل نے دکھایا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll