نگران حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ٹھو س اقدامات کر رہی ہے،طاہر اشرفی
پاکستان میں ہر شہری کو اپنے اپنے مذہب اورمسلک کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل آئینی اور قانونی حق حاصل ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا


چیئرمین پاکستان علما کونسل و نمائندہ خصوصی وزیراعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی ومشرق وسطی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہاہے کہ دنیا میں امن کے قیام کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دینا ہو گا، پاکستان میں اقلیتوں کوتمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اورملک میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم رکھنے کے لیے اقلیتوں نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہفتہ کوحضوری باغ بادشاہی مسجد لاہور میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ نگران حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ٹھو س اقدامات کر رہی ہے ، حضوری باغ بادشاہی مسجد لاہور میں آج کا یہ پروگرام تاریخی بادشاہی مسجد کے میناروں کے سائے میں ہو رہا ہے جہاں ایک طرف بادشاہی مسجد ہے اور ایک طرف علامہ محمد اقبال بھی یہاں پرآرام فرما رہے ہیں اوراس کے اطراف میں دیگر مذاہب کے مراکز بھی موجود ہیں۔
پاکستان میں ہر شہری کو اپنے اپنے مذہب اورمسلک کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل آئینی اور قانونی حق حاصل ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔انہوں نے شرکا کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے آبائو اجداد نے جو پاکستان بنایا تھا اس کا آئین اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں رہنے والے برابر ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ۔انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ میں نے 57اسلامی ممالک کے آئین اور قانون کو پڑھا ہے مگر پاکستان کے آئین اور قانون سے زیادہ اسلامی کوئی قانون نہیں جو قران و سنت کے تابع ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کیلئے جدوجہد کرنی ہے جہاں مسلمان ہو یا مسیحی بچی وہ یہ نہ کہے کہ مجھے سکول جانے سے ڈر لگتا ہے۔
کسی مسیحی یا مسلم کو اپنی عبادت گاہ میں جاتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو ۔طاہر محمود اشرفی نے کہاکہ گزشتہ دنوںجڑانوالہ کے افسوسناک واقعہ کے بعد ہم نے کھڑے ہو کے اپنی مسیحی برادری سے معافی مانگی کیونکہ جو زیادتی کرتا ہے معافی بھی وہی مانگتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی جذبات بھڑکانے اور تشدد پر اکسانے کے یہ روئیے دنیا کے امن کے لئے مہلک ، قابل نفرت اور قابل مذمت ہیں،آزادی اظہار رائے اور احتجاج کی آڑ میں مذہبی منافرت پر مبنی اشتعال انگیز کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی،بین الاقوامی قانون مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر نفرت اور امتیازی سلوک کوممنوع قرار دیتا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ عمارت منہدم، 5 بچوں سمیت 16 افراد شہید
- 2 دن قبل
مکہ معاہدے پر حملے کا جواب تینوں ممالک طے کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
- 2 دن قبل
وفاقی حکومت نے تین ماہ کی کفایت شعاری مہم کا اعلان کر دیا
- 14 گھنٹے قبل

مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، حوثی حملوں کا تسلسل: پاکستان کا دفاعی معاہدوں پرعملدرآمد کیلئےعزم کا اظہار
- 21 گھنٹے قبل

وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری لگژری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی
- 19 گھنٹے قبل

ریڈ لائن کی شوٹنگ کا آغاز، ستارے سیٹ پر پہنچ گئے
- 3 دن قبل

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا بھارت میں مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی کھیلنے سے انکار
- 2 دن قبل

پنجاب میں پولیو مہم، خلا فوری پُر کرنے کی ہدایت
- 15 گھنٹے قبل

نئی پنجابی فلم 'مینگو جٹ' کے ٹریلر لانچنگ کی تقریب، ریلیز کی تاریخ کا اعلان
- 20 گھنٹے قبل

اسلامی تعاون تنظیم کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
- 2 دن قبل

سونے کی فی تولہ قیمت میں اچانک بڑی کمی
- 20 گھنٹے قبل

فیلڈ مارشل کا قومی سلامتی و استحکام میں ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کی اہمیت پر زور
- 2 دن قبل




