اسلام آباد : حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول (ای سی ایل) میں شامل کردیا ، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کاکہنا ہے کہ شہباز شریف کو اگراجازت دی تو واپس لانا مشکل ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو اپنے بھائی کی طرح واپس لانا مشکل ہو گا ، ان کے خاندان کے 5 افراد پہلے ہی مفرور ہے اور حکومت کو مطلوب ہیں ، شہباز شریف کے خلاف 4 وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اگر انہیں باہر جانے کی اجازت دی جاتی تو وہ ثبوتوں پر اثر انداز ہوسکتے تھے ۔ ان کاکہنا تھا کہ اجازت دینے کی وجہ سے شہباز شریف کا کیس تاخیر کا شکار بنتا جا رہا ہے ،اس لیے بھی ان کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، وہ نواز شریف کے واپسی کے ضمانتی تھے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ دنیا کا واحد کیس ہے اسی دن کیس لگا ، اسی دن فیصلہ ہوا اور اسی دن ٹکٹ بک کرائی، اس کیس کے تمام ملزم ای سی ایل میں ہے سوائے شہباز شریف کے۔ شہباز شریف نے اپنے بھائی کی طرح کوئی میڈیکل دستاویزات جمع نہیں کروائی ،نہ ہی شہباز شریف کی میڈیکل دستاویزات حکومت کو موصول ہوئی، نہ انہوں نے اس کیس میں یہ کہا کے میرا کیس فلاں انسان ہینڈل کرے گا ۔
شیخ رشید کاکہنا تھا کہ اس بنیاد پر نیب نے جو ریکمینڈیشن دی،شہباز شریف کا نام اسی سی ایل میں ڈالنے سے متعلق تمام اداروں کو بتا دیا گیا ہے، ،کیس میں موجود تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ہے، اب شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا گیا،سب ملزموں کے ساتھ ایک سلوک ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، شہباز شریف اگر چاہے تو 15 دن کے اندر اپنی درخواست دے سکتے ہیں ، عدالت کے فیصلے پر میں تبصرہ نہیں کر سکتا ، عدالت عدالت ہے۔
وزیرداخلہ نے کہاکہ ایسی کوئی اطلاع نہیں ڈیل سے باہر آئے یا ڈیل کے تحت باہر جا رہے تھے، ڈیل سے متعلق میرے پاس کوئی اطلاع نہیں ۔ جو لیڈر ہوتا ہے اپنے لوگوں میں جینا چاہتا ہے، مرنا چاہتا ہے لندن نہیں بھاگنا چاہتا۔ عمران خان سمجھدار آدمی ہے، شاید ہم سب چھٹیاں کر رہے تھے لیکن عمران خان عید پر بھی کام کر رہا تھا، عمران خان انشااللہ کامیاب ہو گا اور اس ملک کو بحران سے نکالے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ( ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دی تھی ،
22اپریل کو لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کی تھی ۔
28اپریل 2021 کو نیب لاہورکی جانب سےخط نیب ہیڈکوارٹرز کو ارسال کیا گیا۔ خط میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔
6مئی کو شہباز شریف نے بلیک لسٹ میں نام موجود ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تاہم 8مئی کو بیرون ملک روانگی کے لیے جب شہباز شریف لاہور ائیرپورٹ پہنچے تو امیگریشن حکام نے انہیں پرواز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جس پر اپوزیشن لیڈر واپس گھر روانہ ہوگئے
.jpeg&w=3840&q=75)
پنجاب حکومت کا فلم سٹی اتھارٹی کے قیام فیصلہ،ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کا خیر مقدم
- 2 دن قبل

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی قید سے رہا کر دیا گیا،اسحاق ڈار
- 20 گھنٹے قبل

پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز 2.5 لاکھ تک پہنچ گئے، 80 فیصد مریض علاج سے محروم ،بچوں میں پھیلاؤ تشویشناک
- 2 دن قبل

وزیراعظم نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیر قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی
- 2 دن قبل

امریکی ریاست ٹیکساس میں چھوٹا طیارہ گرکرتباہ،5 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل
سعودی عرب نے15سال سے کم عمر بچوں کو حج پر لے جانے پر پابندی عائد کر دی
- 20 گھنٹے قبل
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب، مفکرِ پاکستان کو بھرپور خراجِ عقیدت
- ایک دن قبل

پاک افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف کو زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا: دفتر خارجہ
- 18 گھنٹے قبل

پی ایس ایل ایلیمینیٹر:اسلام آباد یونائیٹڈ کا حیدرآباد کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- 2 دن قبل

اسلام آباد مذاکرات: ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے نئی تجاویز بھجوا دیں ،ایرانی میڈیا
- 2 دن قبل

وزیر اعلیٰ سہیل آفرید ی نے پشاور رنگ روڈ مسنگ لنک پیکج ون کا افتتاح کر دیا
- 2 دن قبل

امریکی صدر نے یورپ سے امریکا درآمد کی جانیوالی گاڑیوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کردیا
- 2 دن قبل







