صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تعلیم کے فروغ ،صحت ،ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے شعبے میں خدمات پر ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین کو نشان پاکستان کا اعزاز دیا


صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں تعلیم کے فروغ ،صحت ،ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے شعبے میں خدمات پر دائودی بوہرہ برادری کے داعی و سربراہ ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین کو نشان پاکستان کا اعزاز دیا ۔
منگل کو ایوان صدر میں اس حوالےسے پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔ نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی ، نگران وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر انیق احمد ، گورنر سندھ کامران احمد ٹیسوری اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز تقریب میں شریک تھے ۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے دائودی بوہرہ برادری کے داعی و سربراہ ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین کو نشان پاکستان سے نوازا ۔ تقریب میں شرکا کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین داؤدی بوہرہ کمیونٹی کے 53 ویں داعی اور سربراہ ہیں۔
نارتھ ناظم آباد کراچی میں سیفی ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ کارڈیک ونگ زیر تعمیر ہے۔ صرف گزشتہ چند سال میں پاکستان کے مختلف حصوں میں ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین کے پیروکاروں کی جانب سےایک لاکھ سے زیادہ درخت لگائے گئے۔لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے ’’پروجیکٹ رائز‘‘ کے نام سے ایک عالمی اقدام شروع کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ رائز کے ترقی کے پروگرام صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت، ماحولیاتی ذمہ داری اور تحفظ اور تعلیم سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہیں۔ ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں فعال کردار ادا کریں اور ملک میں کاروباری مواقع تلاش کریں۔
انہوں نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی زندگیاں قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں گزاریں۔ ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین نے داؤدی بوہرہ کمیونٹی کے اندر خوراک کے عدم تحفظ کے مسئلے کو حل کیا ہے جس کے ذریعے ہر گاؤں، قصبے یا شہر میں جہاں وہ رہتے ہیں، فیض الموائد کے زیر اہتمام ایک مشترکہ باورچی خانہ قائم کیا گیا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں ایف ایم بی کمیونٹی کچن سے روزانہ 7000 سے زیادہ خاندان مستفید ہوتے ہیں۔روحانی رہنمائی اور سماجی خدمات کے میدان میں پاکستان کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں صدر مملکت نے ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین کو “نشانِ پاکستان” عطا کیا

توانائی بچت اورکفایت اشعاری اقدمات کے تحت ملک بھر میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
- ایک دن قبل

صحت نہ صرف ایک انفرادی ترجیح ہے بلکہ معاشی ترقی، استحکام اورمعیاری زندگی کی بنیاد بھی ہے،شہباز شریف
- 2 گھنٹے قبل

وزیر اعظم سے ترکیہ کے وفد کی ملاقات،برادرانہ تعلقات اور جامع معاشی شراکت داری پر تبادلہ خیال
- ایک گھنٹہ قبل

قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے،وزیر اعظم
- 2 گھنٹے قبل

پاکستان کی سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت
- 15 منٹ قبل

ایران نے پاکستان کےمجوزہ ’’اسلام آباداکارڈ‘‘ پر اپنے ردعمل سے آگاہ کردیا
- 21 گھنٹے قبل

نیشنل ٹیرف کمیشن کی سرگرمیوں کو ڈیجیٹلائز کر کے شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم
- 2 گھنٹے قبل

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک گھنٹہ قبل

استنبول: اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے تین افراد اجاں بحق، دو اہلکار زخمی
- ایک گھنٹہ قبل

جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں،ایرانی سفیر
- ایک گھنٹہ قبل

کورکمانڈرزکانفرنس:سعودی عرب کےپیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پرحالیہ حملوں کی شدید مذمت
- 33 منٹ قبل

ایک کروڑ 40لاکھررضا کار وطن کےدفاع میں جانیں قربان کرنےکے لیےتیارہیں، ایرانی صدر
- 40 منٹ قبل









