Advertisement
پاکستان

اپوزیشن کے اعتراضات مسترد، براڈ شیٹ انکوائری کمیشن نے کام شروع کردیا

اسلام آباد: اپوزیشن اور بارز کونسل کے اعتراضات مسترد، براڈ شیٹ انکوائری کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Feb 4th 2021, 11:08 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق  براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید سیکرٹریٹ پہنچ گئے،عملی طور پر براڈ شیٹ انکوائری کمیشن نے آج سے کام شروع کردیا،وفاقی شرعی عدالت میں قائم سیکرٹریٹ بھی باقاعدہ فعال ہوگیا۔

براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے جسٹس (ر) عظمت سعید کمیشن نے کام کا باقائدہ آغاز کردیا، جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو افسران اور ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنانے کا اختیار حاصل ہے،براڈشیٹ کمیشن 6 ہفتوں میں انکوائری مکمل کرے گا۔

جی این این کے مطابق  تحقیقاتی کمیشن براڈ شیٹ اور آئی اے آر کے انتخاب، تقرری کے عمل اور معاہدوں کی چھان بین کرے گا۔کمیشن 2003 میں براڈشیٹ اور آئی اے آر کے ساتھ معاہدوں کی منسوخی کی وجوہات اور اثرات کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔کمیشن 2008 میں براڈ شیٹ کوپاکستان کی ادائیگیوں کی وجوہات اور اثرات کی نشاندہی بھی کریگا، جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کی سربراہی میں  کمیشن مختلف کیسز بند کرنے کے نتیجے میں ملک کو ہونے والے مالی نقصان کا تعین بھی کریگا۔

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کو تحقیقات کے لیے کسی بھی شخصیت کو طلب کرنے کے لیے بااختیار ہوگا، براڈ شیٹ کمیشن گزشتہ 30 سال میں ہونے والی بدعنوانیوں سمیت دیگر کرپشن کیسز کی تحقیقات بھی کرے گا،کمیشن میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو متعین کیا گیا ہے،کمیشن کی لاجسٹک سپورٹ سمیت تمام ضروریات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے براڈ شیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جسٹس (ر) عظمت سعید کا تقرر مسترد کردیا تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں کاکہنا تھا  کہ جسٹس عظمت  سعید نیب پراسیکیوٹر رہ چکے ہیں جبکہ شوکت خانم کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی ہیں۔  اس کے علاوہ نواز شریف کا پاناما کیس کا فیصلہ دینے والے جج بھی  یہی ہیں ۔

براڈ شیٹ کیس کیا ہے اور نیب معاہدہ :

1999 میں جنرل پرویز مشرف نے کرپٹ سیاستدانوں  احتساب کے لیے قومی احتساب بیورو نیب  قائم کیا ۔  لہذا کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سال  2000 میں نیب کے لیے  کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ نیب نے برطانوی رجسٹرڈ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی سراغ رساں کمپنی کے ساتھ مبینہ ناجائز طور پر کمائی گئی دولت کے ذریعے خریدے گئے غیرملکی اثاثوں کا پتہ لگانے کے لئے معاہدہ کیا اور 200اہداف کے نام براڈ شیٹ کو فراہم کیے گئے ۔سال 2000 میں نیب کے   معاہدے میں یہ قرار دیا گیا  کہ کمپنی جو بھی اثاثے برآمد کرے گی اس کا 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا اور بقیہ نیب کے پاس جائے گا۔اس معاہدے میں براڈشیٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی جگہ اثاثے ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔نیب اور براڈشیٹ نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تھا جس کو نیب اور کمپنی کو مشترکہ طور پر کنٹرول کرنا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمد ہونے والی تمام اثاثوں کی رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔

2003 میں پاکستان حکومت نے یہ کہہ کر یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیا کہ فرم کی جانب سے کوئی قابل عمل اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں۔تاہم فرم کا موقف تھا کہ اس نے لسٹ میں شامل افراد کے اثاثوں کے حوالے سے قابل ذکر معلومات فراہم کی ہیں تاہم نیب نے ان افراد سے اس معلومات کی بنا پر ڈیل کر لی ہے۔

اسی دعوے کی بنیاد پر براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں جرمانے کا دعویٰ کر دیا۔ 2003میں معاہدے کی منسوخی پر کمپنی نے واجب الادا 2کروڑ 20لاکھ ڈالر کی وصولی کے لئے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس کے ساتھ 4ہزار 758ڈالر یومیہ کا اس پر سود بھی لگایا گیا تھا۔

  20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ، 1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی،2009 میں معلوم ہوا کہ  ادائیگی  ایسے شخص کو کی گئی جس کا تعلق اس کمپنی سے نہیں تھا  ۔ 2009سے 2016 تک یہ مقدمہ چلتا رہا  ، براڈشیٹ کےساتھ جنوری2016 میں لائیبلٹی کا کیس شروع ہوا،ہائیکورٹ  فیصلے پر حکومت پاکستان نے جولائی 2019 کو اپیل فائل کی ، اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔  پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد جولائی 2019 میں پاکستان نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی مگر فیصلہ تبدیل نہیں ہوا ۔ 31 دسمبر 2020 کو ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے براڈ شیٹ کو  2کروڑ 87لاکھ ڈالرزجرمانہ ادا کیا۔

Advertisement
فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی کیخلاف بلوچستان کی سیاسی قیادت متحد، کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت

فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی کیخلاف بلوچستان کی سیاسی قیادت متحد، کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت

  • 2 دن قبل
 امریکا ،ایران جنگ رکوانے کے لیے بہت کام ہوچکا، معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم

 امریکا ،ایران جنگ رکوانے کے لیے بہت کام ہوچکا، معاملات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم

  • 2 دن قبل
رواں سال عید الاالضحیٰ پر تین لالی وڈ فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں گی

رواں سال عید الاالضحیٰ پر تین لالی وڈ فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں گی

  • 2 دن قبل
اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی،ٹرمپ

اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی،ٹرمپ

  • 2 دن قبل
آبنائے ہرمز سے مزید تیل اور ایل این جی بردار جہاز گزر کر پاکستان اور چین کو روانہ

آبنائے ہرمز سے مزید تیل اور ایل این جی بردار جہاز گزر کر پاکستان اور چین کو روانہ

  • 2 دن قبل
وزیر اعظم کی صدر شی سے ملاقات،دونوں ممالک نےایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی،چینی صدر

وزیر اعظم کی صدر شی سے ملاقات،دونوں ممالک نےایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی،چینی صدر

  • 2 دن قبل
پاکستان،چین دوستی کو آئندہ نسلوں کیلئے مزید مضبوط بنانا ہو گا،وزیراعظم

پاکستان،چین دوستی کو آئندہ نسلوں کیلئے مزید مضبوط بنانا ہو گا،وزیراعظم

  • 9 گھنٹے قبل
امام مسجد نبوی کا مسلمانوں کے مابین اتحاد کے فروغ پر زور

امام مسجد نبوی کا مسلمانوں کے مابین اتحاد کے فروغ پر زور

  • 10 گھنٹے قبل
سوات ایکسپریس وے پر وین کی مسافر بس کو ٹکر، 16 افراد جاں بحق، 7 زخمی

سوات ایکسپریس وے پر وین کی مسافر بس کو ٹکر، 16 افراد جاں بحق، 7 زخمی

  • ایک دن قبل
پرنس رحیم الحسینی آغا خان کا گلگت بلتستان اور چترال کا تین روزہ دورہ مکمل کر واپس روانہ

پرنس رحیم الحسینی آغا خان کا گلگت بلتستان اور چترال کا تین روزہ دورہ مکمل کر واپس روانہ

  • ایک دن قبل
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے غیر رسمی ملاقات

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے غیر رسمی ملاقات

  • 2 دن قبل
قوم کل عیدالاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی

قوم کل عیدالاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی

  • 10 گھنٹے قبل
Advertisement